روس اور یوکرین

روسی حملہ ’بالکل بلااشتعال‘ اور’انسانیت کے خلاف‘ہے:یوکرینی وزیرخارجہ

نیٹوکی پالیسی کے حوالے سے روس کوخدشات تھے تو انھین مذاکرات کی میز پرطےکیاجانا چاہیے تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 9 منٹ

یوکرین کے وزیرخارجہ دمیتروکلیبا نے جمعرات کو العربیہ سےنشر ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ یوکرین پر روس کا حملہ ’’بالکل بلااشتعال‘‘ تھا اور یہ ’’انسانیت کے خلاف حملہ‘‘ ہے۔

انھوں نے کہا کہ یوکرین کے خلاف روسی جنگ بالکل بلا اشتعال اور بلاجواز ہے۔اگرنیٹو کی پالیسی کے حوالے سے روس کو کوئی خدشات تھے تو انھین مذاکرات کی میز پر حل کیا جانا چاہیے تھا۔ اس کے بجائے روس نے جنگ کو ترجیح دی۔

انھوں نے کہا کہ اگر کوئی آپ کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے تو آپ فوری طور پربندوق سے اس شخص کو ہلاک کرنے کے لیےجوابی فائرنگ نہیں کرتے ہیں۔ آپ پہلے یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ کون دستک دے رہا ہے اور وہ کیا چاہتا ہے مگرروس نے فائرنگ اور قتل کا فیصلہ کیا۔

روس نے 24 فروری کو یوکرین پر حملہ کیاتھا۔اس نے اس کو’’خصوصی فوجی کارروائی ‘‘کا نام دیا اور اس کا مقصد یہ بتایا کہ اس کے ذریعے یوکرین کو نازی ازم سے پاک کیا جارہا ہے۔اب تک اس جنگ کے نتیجےمیں یوکرین کے کئی شہر تباہ ہوچکے ہیں اور اندرون اور بیرون ملک لاکھوں یوکرینی بے گھر ہوگئے ہیں۔خیال کیا جاتا ہے کہ اب تک ایک کروڑ بیس لاکھ سے زیادہ یوکرینی یورپ میں پناہ کی تلاش میں جاچکے ہیں۔

یوکرین کے مشرق میں بہت زیادہ شدید لڑائی ہو رہی ہے۔ساحلی شہرماریوپول میں ازوفستل اسٹیل پلانٹ پر قبضے کے لیے روسی فوج حملہ آور ہے۔وہ اس پر مکمل کنٹرول حاصل کے لیے جدوجہد کررہی ہے۔ بہت سے شہریوں نے اسٹیل پلانٹ کے اندر پناہ لے رکھی ہیں اور وہ محفوظ راستے اور انخلاکی اجازت کے منتظر ہیں۔

روس کا منصوبہ ’ناکام‘ ہو رہا ہے

یوکرینی وزیرخارجہ نے الحدث کو انٹرویومیں بتایا کہ ’’روس کا تمام یوکرین پر قبضہ کرنے کا ابتدائی منصوبہ ناکام ہوچکا ہے۔میں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ روس کا ابتدائی منصوبہ چند دنوں کے اندر پورے یوکرین کو فتح کرنے کا تھا مگرحملے کے آغاز سے ہی یہ منصوبہ ناکام ہو گیا۔پھرروس نے کہا کہ وہ یوکرین کے لوہنسک اور دونیتسک خطے کو مکمل طور پر فتح کرلےگا اور یہ منصوبہ بھی ناکام ہو رہا ہے۔روس نے یوکرین کے میدان جنگ میں کوئی تزویراتی مقصد حاصل نہیں کیا ہے‘‘۔

کلیبا کے الفاظ میں ’’روسی قبضے سے متاثرہ دو شہر ملک کے جنوب میں ہیں:خیرسن اور ماریوپول۔وہ ان پر قابو پاچکے ہیں، لیکن بہت سے دوسرے شہرمحاصرے میں ہیں، جن پر روس مکمل قابو پانا چاہتا تھا مگرایسا کرنے میں ناکام رہا۔ میدان جنگ کی صورت حال انتہائی مشکل ہے کیونکہ روس ہماری افواج کے خلاف بہت سارے ہتھیار اور پیادہ فوج آزما چکا ہے لیکن ہمارے فوجی اپنی سرزمین کا دفاع کررہے ہیں اور وہ اپنے عہدوں پرفائز ہیں اور روس کا جارحانہ منصوبہ ناکام ہو رہا ہے‘‘۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ یوکرین کے وزیرخارجہ کی حیثیت سے میں جو کچھ کَہ رہا ہوں، وہ حقائق پر مبنی ہے۔میرے ملک کوان حالات سے گزرنا پڑا۔

انھوں نے کہا کہ روس کامنصوبہ حملے کے پہلے دودنوں میں کیف پرقبضہ کرنا تھا اور کیف پر قبضے کو دیکھ کر انھیں توقع تھی کہ باقی یوکرین جلد گھٹنوں کے بل گر جائے گا مگرایسا نہیں ہوا۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ روس 100 بار کَہ سکتا ہے کہ وہ جیت رہا ہے، وہ اپنی کارروائیوں کے تمام مقاصد تک پہنچ گیا ہے، لیکن مجھے بتائیں کہ اگر وہ اتنے کامیاب ہیں تو وہ یوکرینی دارالحکومت کیف اور شمال مشرق سے کیوں پیچھے ہٹ گئے جب انھیں احساس ہوا کہ وہ کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے؟

روسی وزیرخارجہ سرگئی لافروف نے گذشتہ ہفتے العربیہ کو ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ ان کے یوکرین میں’’آپریشن‘‘کا بنیادی مقصد دو خود ساختہ روسی حمایت یافتہ جمہوریاؤں دونیتسک اور لوہنسک کا تحفظ کرنا تھا۔

لافروف نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ان کے اقدامات یوکرین میں نیٹواتحاد جو کچھ کر رہا ہے،اس کا جواب ہیں تاکہ اس ملک کو مبیّنہ طورپر روس کے خلاف انتہائی جارحانہ انداز اختیارکرنے کے لیے ’’تیار‘‘کیا جا سکے۔

یوکرینی وزیرخارجہ نے مزید کہا کہ ’’یہ روسی پروپیگنڈا ہے جو روسی عوام کو یہ سمجھانے میں کامیاب رہا ہے کہ روسی فوج کی (کیف سے) پسپائی مخالف سمت میں ایک جارحانہ کارروائی کی وجہ سے ہوئی ہے مگر روس کے برعکس، ہم (یوکرینی)ایک آزاد دنیا میں رہتے ہیں جہاں کوئی بھی کچھ بھی کَہ سکتا ہے،جو وہ چاہتا ہے۔ یہ مغرب کی جانب سے روس کے خلاف شروع کی گئی جنگ نہیں ہے‘‘۔

انھوں نے مزیدکہا:’’جو کوئی بھی اس کا دعویٰ کرتاہے،وہ حقیقت کومسخ کرتا ہے اور روسی پروپیگنڈے کے مقاصد کوپورا کرتا ہے۔ یہ جنگ روسی فیڈریشن نے ایک خود مختار پڑوسی ملک کے خلاف شروع کی تھی جس سے اسے کوئی خطرہ نہیں تھا‘‘۔

کلیبا کے مطابق یوکرین’’ایک آزاد ملک ہے جواپنے آزادانہ انتخاب کرتا ہے۔ ہم نے ایک ایسا ملک بننے کا انتخاب کیا جو یورپی معیارِزندگی اور تحفظ پر پورااترے گا۔روس نہیں چاہتا تھا کہ ہم آزاد ہوں۔ وہ تو یہ چاہتا تھا کہ ہم روسی دنیا کے اندر رہیں جہاں خوش حالی اور تحفظ نہ ہو‘‘۔

پوپ کا یوکرین میں خیرمقدم

وزیرخارجہ نے یہ بھی کہا کہ رومن کیتھولک کے روحانی پیشوا پوپ فرانسیس کا یوکرین میں خیرمقدم کیا جاتا ہے، ان اطلاعات کے بعد کہ انھوں نے روسی صدر ولادی میر پوتین کے ساتھ ماسکو میں ملاقات کی درخواست کی تھی تاکہ جنگ روکنے کی کوشش کی جا سکے۔

کلیبا نے کہا کہ یوکرین میں پوپ کوسب سے زیادہ خوش آمدید کہا جاتا ہے۔لاکھوں یوکرینیوں کا تعلق رومن کیتھولک چرچ سے ہے اور ان کے لیے پوپ روحانی پیشوا ہیں۔وہ انھیں یوکرین میں دیکھ کر اوران کے ساتھ دعا میں شریک ہوکرزیادہ خوش ہوں گے تاکہ اس سانحے میں ہمارے ملک اور لوگوں کی مدد کی جا سکے۔

رائٹرزکی رپورٹ کے مطابق پوپ فرانسیس نے منگل کو شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا کہ انھوں نے روسی صدر سے ملاقات پر زوردیا تھا لیکن انھیں کوئی جواب نہیں ملا۔

پوپ نے اطالوی اخبارکوریرڈیلاسیرا کو یہ بھی بتایا کہ روسی آرتھوڈوکس چرچ کے پیٹریارک کریل، جنھوں نے جنگ کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا ہے،پوتین کا ’مذبح لڑکا‘نہیں بن سکتے‘‘۔

پوپ نے جنگ شروع ہونے پرروم میں روسی سفارت خانے کا غی معمولی دورہ کیا تھا۔انھوں نےاخبار کو بتایا کہ تنازع کے تقریبا تین ہفتے بعد انھوں نے ویٹی کن کے اعلیٰ سفارت کارسے پوتین کو ملاقات کا پیغام بھیجنے کا کہا تھا۔

انھوں نے کہا کہ پیغام یہ تھا کہ میں ماسکو جانے کو تیار ہوں۔ یقیناًکریملن کے رہنما کے لیے یہ ضروری تھا کہ وہ اس کی اجازت دیں لیکن ہمیں ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا ہے اور ہم اب بھی دورے پراصرار کر رہے ہیں‘‘۔

انھوں نے مزید کہا:’’مجھے خدشہ ہے پوتین اس وقت یہ ملاقات نہیں کر سکتے اور نہ ہی کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن تم اتنی سفاکیت کو کیسے نہیں روک سکتے؟‘‘

یوکرینی وزیرخارجہ کلیبا کا خیال ہے کہ پوپ سمجھتے ہیں کہ روس نے یوکرین میں جو کچھ کیا،وہ انسانیت پر حملہ ہے۔یہ سمجھ سے بالاترہے اور یہ خدا کی مرضی کے خلاف ہے‘‘۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’یوکرین پوپ کی جانب سے یوکرین کے خلاف روس کی جنگ کی واضح مذمت کو سراہتا ہے۔اس کا اظہار متعدد مواقع پر کیا گیا اور یوکرین میں امن کے لیے انھوں نے دعائیں بھی کی ہیں‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ انھیں اس میں کوئی شک نہیں کہ پوپ یوکرین کا دورہ کریں گے لیکن اس بات کی تصدیق نہیں کر سکتے کہ وہ پہلی بار روس کا دورہ کب کریں گے؟مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ پہلے وہ یوکرین کا دورہ کریں گے۔ اور... یوکرین کے عوام روس جاتے ہوئے ان کا دل سے خیرمقدم کریں گے۔ مجھے ڈر ہے کہ ان کا گرم جوشی سے استقبال نہیں کیاجائے گا، لیکن یہ ان پرمنحصرہے کہ وہ اپنا انتخاب کرے اور میں ان کے حق کا احترام کرتا ہوں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں