سعودی ایئرلائن نے جون کے آخرمیں نیوم بے ایئرپورٹ سے دبئی کے لیے ہفتہ وار پروازیں شروع کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ لندن کے لیے براہ راست پروازوں پر بھی غور کررہی ہے۔
نیوم میگا سٹی پراجیکٹ کے چیف ایگزیکٹوآفیسر(سی ای او)نظمی النصرنے ایک بیان میں کہا کہ یہ ہوائی اڈا منصوبہ بندشہرکا سفرکرنے والے زائرین کے لیے ایک ’’اہم مرکزی مقام‘‘کی نمائندگی کرتا ہے۔
نیوم سعودی عرب کے شمال مغرب میں دارالحکومت الریاض سے قریباً 1500 کلومیٹرکے فاصلے پر واقع ہے۔سعودی ائیرلائن نے جنوری 2019 میں الریاض سے نیوم کے لیے اپنی پہلی پروازیں شروع کی تھیں۔
زیرِتعمیراس میگاسٹی میں اس وقت 65 سے زیادہ ممالک سے تعلق رکھنے والے مقامی اور بین الاقوامی ماہرین سمیت 1500 افراد کام کر رہے ہیں۔اس منصوبہ کا اعلان 2017ء میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے تیل کی آمدن سے ماورا معیشت کو متنوع بنانے کے اپنے وژن 2030ء کے حصے کے طور پرکیا تھا۔
بحیرۂ احمر کے کنارے واقع نیوم 2023 میں ابتدائی سیاحوں کا خیرمقدم کرے گا۔اس منصوبے کا مقصد ملکی اور بین الاقوامی سطح پر سیاحت کے ساتھ ساتھ رئیل اسٹیٹ کی صنعت کابھی فروغ ہے۔
جنوری 2021 میں ولی عہد نے اعلان کیا تھاکہ نیوم میں کمیونٹیز کے لیے 170 کلومیٹرلمبی بیلٹ تعمیرکی جائے گی۔’دا لائن‘ایک زیروکاربن سسٹم ہوگا۔اس میں سڑکیں یا کاریں نہیں ہوں گی۔
اس کے بجائے مسافروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ تیز رفتارٹرانزٹ سسٹم استعمال کریں گے جس میں مبیّنہ طور پر شہر کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک لوگوں کو لے جانے میں 20 منٹ سے زیادہ وقت نہیں لگے گا۔
نیوم کے لیے تشہیری مواد بھی اسے کم کاربن والے پائیدار شہر کے طور پرپیش کرتا ہے۔اس کا خاکا جسمانی ورزش پر زور دیتا ہے۔
منصوبہ کے اسپورٹس ڈائریکٹر نیل کوپ لینڈ نے العربیہ انگلش کو انٹرویو میں بتایا کہ ہم اس شہر کوکرۂ ارض پر سب سے زیادہ فعال جگہ بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس میں تین چوتھائی آبادی ہفتے میں کم سے کم تین گھنٹے ورزش کرے گی۔
نائٹ فرینک کے سروے کے مطابق1003گھرانوں اور55 اعلیٰ خالص مالیت کے حامل افراد کے نزدیک مملکت میں بڑے تعمیراتی منصوبوں میں سے نیوم گھرخریدنے والوں کے لیے سب سے مقبول انتخاب تھا۔