اہرام مصر میں خواتین سیاحوں کی اجتماعی ہراسانی، عوامی غم وغصہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصرکے مشہور سیاحتی مقامات ’اہرامات‘ کی سیر کے لیے آنے والی خواتین سیاحوں کے ساتھ بدسلوکی کا ایک نیا واقعہ سامنے آیا ہے۔ ٹک ٹاک پر نشر کی گئی ایک ویڈیو میں ھجوم کی طرف سے خواتین کو ہراساں کرنے کی کوشش کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

دوسری طرف ویڈیو سامنے آنے کے بعد مصری عوام میں ہراسانی کے اس واقعے پر شدید غم وغصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ عوامی حلقوں نے خواتین سیاحوں کو ہرساں کرنے کے واقعے پر مجاز حکام سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب ایک غیر ملکی خاتون سیاح نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں اہرام کے آس پاس نوجوانوں کا ایک ہجوم دو خواتین سیاحوں کا پیچھا کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں بات کرتے ہوئے اس نے کہا کہ اھرام مصر جہاں قابل دید سیاحتی مقام ہے، وہیں یہ خواتین سیاحوں کے لیے انتہائی خطرناک بھی ہے۔

غیر ملکی خاتون سیاح نے کہا کہ وہ اپنی ایک دوست کے ساتھ اھرام کی سیر کے لیے گئی۔ انہیں پورے سفر میں جگہ جگہ ہرسانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ خاتون ٹک ٹاکر نے بتایا کہ چھوٹے بچے بھی ہمارے پیچھے پڑ گئے۔ انہوں نے بھی ہم پر حملہ کرنے کی کوشش کی اور ہمارا سامان چھین لیا۔

اس واقعے پر مصری عوام کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے اور سیاحتی مقامات پر سیاحوں کے ساتھ پیش آنے والے اس شرمناک واقعے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ مصر ایک سیاحتی ملک ہے اور ہر سال دنیا بھر سے لوگ سیاحت کے لیے یہاں آتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات سے مصر کی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

مصر میں خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ یا ہراسانی پر سخت سزائیں مقرر ہیں۔ پہلی دفعہ ایسے جرم کے ارتکاب پردو سے چار سال قید اور ایک لاکھ سے دو لاکھ پاوٗنڈ جرمانہ جب کہ ہراسانی کے بار بار مرتکب ہونے والے شخص کو پانچ سے پندرہ سال قید کی سزائیں مقرر ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں