.

’تیراک کوڈوبتا دیکھ کر ریسکیو ٹیم ’سکتے‘ میں آگئی،اس لیے مُجھے خود پانی میں اترنا پڑا

تیراکی کے دوران بے ہوش ہونے والی تیراک کو ریسکیو کیے جانے کا منظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بُدھ کو ہنگری میں ایک تالاب میں تیراکی کے مقابلے کے دوران ایک امریکی خاتون تیراک Anita Alvarez بے ہوش ہوگئیں۔ اس دوران ان کی کوچ نے پانی میں کود کر ان کی جان بچائی۔ کوچ نے دیکھا کہ ’الوارز‘ تیزی کےساتھ تالاب کے پیندے کی طرف جا رہی ہیں۔ انہوں نے تیراک کی زندگی بچانے کے لیے فوری اور تیز رفتار ریسکیو آپریشن کیا۔ اس طرح وہ 25 سالہ امریکی تیراک انیتا الوارز کو تالاب کے نیچے سےباہر نکالنے میں کامیاب رہیں۔ الوارزتیراکی کے دوران بے ہوش ہوگئی تھیں۔

ان کی ہسپانوی کوچ اینڈریا نے بتایا کہ ہنگری کے شہر بوڈاپسٹ میں منعقدہ ورلڈ سوئمنگ چیمپئن شپ کے مقابلوں میں امریکی انیتا الوارزبے ہوش ہونے کے بعد تیزی کے ساتھ پانی میں نیچے کی طرف جا رہی تھیں۔ان کا کہنا ہے کہ وقت ضائع کرنے کی گنجائش نہیں تھی۔ چنانچہ میں نے ڈرامائی اندازمیں ریسکیو آپریشن کیا۔

39 سالہ کوچ نے الوارز کو بچانے کے لیے چھلانگ لگائی جب وہ فری سنگلز کیٹیگری کے فائنل میں اپنی پرفارمنس کے دوران ڈوب رہی تھیں اور سانس لینے سے قاصرتھیں۔ وہ تیسری بار عالمی چیمپئن شپ میں تیراکی کر رہی تھیں۔ یہ ان کی پہلی بے ہوشی نہیں بلکہ وہ ایک سال قبل بارسلونا میں اولمپک کوالیفائر کے دوران بھی تیراکی کے دوران بے ہوش ہوگئی تھیں۔

ٹرینر نے بتایا کہ یہ لمحہ کتنا خوفناک تھا، جس نے مجھے چھلانگ لگانے پر مجبور کیا۔ اس وقت تک ریسکیو کارکن حرکت میں نہیں آئے تھے۔ اس لیے میں نے اپنی پینٹ اور شرٹ کو تالاب کے نیچے ڈبو دیا اور بے ہوش ہونے والی تیراک کو کھینچ کرباہرنکال دیا۔انیتا الوارز کو پول کے کنارے پر پر لانے کے بعد اسٹریچر پر کھیلوں کی سہولت کے ایک طبی مرکز میں منتقل کیا گیا۔

کوچ نے بتایا کہ جب امریکی تیراک ڈوب رہی تھیں تو میں نے ریسکیو ٹیم کی طرف دیکھا تو وہ لوگ ’سکتے‘ میں تھے۔ پھرمیں نے اپنے آپ سے کہا کہ یہ کام اب تمہیں کرنا ہوگا۔ میں نے چھلانگ لگا دی۔ یہ میری پیشہ وارانہ زندگی کا پہلا واقعہ ہے۔ تیراک بہت بھاری تھیں۔ انہیں پانی سے کھینچ کرباہر لانا آسان نہیں تھا۔

کوچ نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "میرے خیال میں وہ کم از کم دو منٹ تک سانس لیے بغیر رُکی، کیونکہ اس کے پھیپھڑوں میں پانی بھرا ہوا تھا لیکن ہم اسے ایک اچھی جگہ پر لے جانے میں کامیاب ہو گئے، جہاں اسے پانی کی قے ہوئی۔" العربیہ ڈاٹ نیٹ" کی تحقیق کے مطابق امریکی تیراک انیتا الوارز امریکا کی ایک جانی مانی پیراک اور تیراکی کے کئی عالمی مقابلوں میں حصہ لیے کے ساتھ تیراکی کے مقابلوں میں16 تمغہ جیت چکی ہیں۔ اس وقت وہ طبی ٹیم کی نگرامی میں ہیں۔ ڈاکٹروں کے مشورے سے وہ تیراکی کے مقابلوں میں حصہ لے سکے گی مگر اس کا فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔

ہوش میں آنے کے بعد الوارز نے کہا کہ تیراکی کے دوران بہت زیادہ محنت کی وجہ سے میں خوفزدہ تھی۔ میں جانتی تھی میں سانس نہیں لے پا رہی۔ مگر اب میں ٹھیک ہوں۔ دل کی دھڑکن،آکسیجن فشار خون اور شوگر سب ٹھیک ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں