’نیند سے بیداری پر دِل میں آواز آئی کہ آدم محمد پیدل حج کی تیاری کرو’

عراقی مسلمان کی برطانیہ سے پیدل حج پرمکہ آمد،سعودی عرب میں استقبال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

آج کے تیز رفتار سفری سہولیات کے دور میں بھی بعض شوقین مزاج مسلمان طویل سفر پیدل چل کرطے کرکے حج کو جاتے ہیں۔ برطانیہ میں مقیم عراقی نژاد آدم محمد بھی ایک ایسے ہی حاجی ہیں جنہیں اس سفر میں تقریبا گیارہ ماہ لگے ہیں اور وہ آخر کار منزل مقصود تک پہنچ گئے ہیں۔

اپنا سامان لے جانے کے لیے تین پہیوں والی گاڑی اور خود پیدل چل کر فریضہ حج دا کرنےکے لیے آنے والے عراقی مسافر برطانیہ سے سعودی عرب پہنچ گئے ہیں۔ عراقی آدم محمد گذشتہ یکم اگست 2021ء کو برطانیہ سے حج کی ادائیگی کے لیے مکہ روانہ ہوئے تھے۔

آدم نے جولائی میں مقدس سرزمین [مکہ معظمہ] پہنچنے کا ایک ہدف مقرر کیا تھا۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے آدم محمد نے بتایا کہ ’میں تقریبا پچیس سال سے برطانیہ میں مقیم ہوں،کرونا کی وبا کی وجہ سے کرفیو لگنے کے بعد میں قرآن پڑھنے اور سمجھنے میں مشغول ہوگیا اور قرآن کے ڈیڑھ سال کے گہرے مطالعے کے بعد میں ایک دن نیند سے بیدار ہوا تو دل میں ایسی آواز آئی گویا کوئی کہہ رہا ہو کہ تم پیدل مکہ شریف حج کےلیے چلو‘۔

آدم محمد کا کہنا ہے کہ مکہ معظمہ کے سفر کی تیاری میں مُجھے صرف دو مہینے لگے اورسفر حج کے لیے ایک برطانوی تنظیم نے میری مدد کے لیے ہاتھ بڑھایا۔

آدم محمد کا کہنا ہے کہ سفر بہت اچھا رہا۔ مجھے کسی جگہ تنگ نہیں کیا گیا۔ البتہ بعض ممالک کی پولیس نے شبے کی بنیاد پر پوچھ تاچھ کے لیے گرفتار کیا۔ البتہ راستے میں جگہ جگہ عام لوگوں نے میری بہت مدد کی لیکن میں نے خود کسی سے مدد نہیں مانگی۔ ان کا کہنا تھا کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں وہ صرف اللہ کی رضا کے لیے ہے۔ میری منشا کوئی ریکارڈ قائم کرنا نہیں۔

ایک ویڈیو کلپ میں آدم محمد کو مکہ معظمہ پہچننے پر بہت زیادہ خوش وخرم دیکھا جا سکتا ہے۔ باون سالہ عراقی مسافر کا کہنا ہے کہ مکہ معظمہ پہنچنے میں انہیں دس ماہ کا عرصہ لگا۔

سیدہ عائشہ مسجد میں موجود آدم سے ملنے مکہ مکرمہ کے باسیوں اور زائرین کی بڑی تعداد پہنچ گئی اور آدم محمد کی آمد پر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے 10 ماہ 25 دن قبل برطانیہ سے پیدل سفر کا آغاز کیا اور 11 ممالک سے ہوتے ہوئے مکہ مکرمہ معظمہ حج کے لیے پہنچے۔

مکہ پہنچنے پر انہوں نے کہا کہ حج میری سب سے بڑی اور عزیز ترین خواہش ہے۔ انہوں نے مملکت کے لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے سعودی عرب میں ان کی آمد کے بعد سے ان سے سخاوت کا مظاہرہ کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں