یمن اور حوثی

حوثیوں سے سڑکیں کھولنے کے لیے کوئی نئی بات چیت نہیں ہوئی: یمنی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

حوثی ملیشیا کی جانب سے اپنے نمائندوں کی اردن آمد کے اعلان کے بعد سڑکیں کھولنے کے لیے مذاکرات کرنے والے حکومتی وفد کے ایک رُکن نبیل جامل نے جمعہ کے روز اس بات کی تردید کی ہے کہ حوثیوں کے ساتھ تعز کی سڑکیں کھولنے کے لیے بات چیت کا ایک نیا دور عمان میں ہو رہا ہے۔

جامل نے اپنے ’ٹوئٹر‘ پیج پر ایک ٹویٹ میں کہا کہ آج ہفتے کو عمان میں ہونے والی ملاقات میں جنگ بندی اور اس کی خلاف ورزیوں کا معاملہ اٹھایا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ فی الحال تعز کی سڑکوں کو کھولنے کے حوالے سے مذاکرات کا کوئی نیا دور نہیں ہو رہا ہے۔ ہمیں اس سلسلے میں ایلچی کے دفتر سے کوئی دعوت نامہ موصول نہیں ہوا ہے۔

حکومتی ٹیم کے رکن نے کہا کہ حوثی اب بھی سڑکیں کھولنے سے انکاری ہیں۔ انہوں نے حوثی وفد سے ملاقات کے بعد مسقط میں اقوام متحدہ کے ایلچی کے آخری مشن کی ناکامی کے امکان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے لگتا ہے کہ مسقط میں ایلچی کا حالیہ مشن کچھ نئی پیش رفت نہیں لا سکا‘۔

ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ کے ایلچی کو تعز کی سڑکیں کھولنے کی اپنی تجویز پر عمل کرنے اور اقوام متحدہ کی طرف سے اعلان کردہ ہانس گرنڈبرگ کی تجویز کو مسترد کرنے سے آگاہ کیا تھا۔

اقوام متحدہ کی نظر ثانی شدہ تجویز میں 5 سڑکوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا گیا ہے جس میں تعز کی طرف جانے والی ایک مرکزی شاہراہ بھی شامل ہے۔ سڑکیں کھولنے کا مقصد شہریوں کی تکالیف کو کم کرنا اور سامان کی آمد و ترسیل میں سہولت فراہم کرنا ہے۔

حوثیوں کی جانب سے تعز شہر کا محاصرہ ختم کرنے کے حوالے سے کسی معاہدے تک پہنچنے میں ناکامی کو اس جنگ بندی کے تسلسل کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ کمزور جنگ بندی اپریل سے جاری ہے اور اس مہینے میں اسے اگست تک بڑھا دیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں