سری لنکا کے صدر گوتابایا راجا پکشے فوجی طیارے پر ملک سے فرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

سری لنکا میں معاشی بحران پر شدید مظاہروں کے سلسلے کے بعد بدھ کو صدر گوتابایا راجاپکشے ملک سے فرار ہو گئے ہیں۔

صدر گوتابایا راجا پکشے کی ایک فوجی طیارے پر ملک سے روانگی نے ایک ایسے خاندان کی حکومت کا خاتمہ کیا ہے جس نے ملک پر کئی دہائیوں تک راج کیا۔

تفصیلات کے مطابق صدر گوتابایا مالدیپ کے شہر مالے پہنچے ہیں۔ گذشتہ دنوں صدارتی محل پر مظاہرین کی جانب سے دھاوا بولے جانے کے بعد سے ان کے بارے میں خیال تھا کہ وہ کہیں روپوش ہیں۔

ذرائع کے مطابق ان کے بھائی، سابق وزیر خزانہ بسل راجا پکشے نے بھی ملک چھوڑ دیا ہے۔ 24 گھنٹے قبل ملک سے روانگی کی ان کی کوشش کو ناکام بنا دیا گیا تھا لیکن ان کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ اب وہ امریکہ جا رہے ہیں۔

اس سے قبل صدر گوتابایا راجا پکشے نے بدھ کے دن اپنے عہدے سے استعفی دینے کا وعدہ کیا تھا۔

سری لنکا کی عوام ان کی انتظامیہ کو ملک کے بدترین معاشی بحران کا ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔ گذشتہ کئی ماہ سے ملک میں روزانہ کی بنیاد پر شدید لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ عوام لوگوں کو بنیادی ضرورت کی اشیا جیسا کہ ایندھن، خوراک اور ادویات کے حصول میں بھی مشکلات کا سامنا رہا ہے۔

صدر گوتابایا ایک مطلق العنان رہنما کے طور پر جانے جاتے تھے جن کو اس وقت تک کسی قسم کی قانونی کارروائی سے استثنی حاصل تھا جب تک کہ وہ صدر کے عہدے پر موجود تھے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ مستعفی ہونے سے پہلے ملک سے فرار ہونے کی وجہ بھی نئی حکومت کی جانب سے گرفتاری کی کسی کوشش سے بچنا ہے۔

صدر کی ملک سے روانگی کے بعد سری لنکا میں ایک ایسے وقت میں سیاسی خلا پیدا ہونے کا خدشہ ہے جب ملک کو ایک ایسی فعال حکومت کی ضرورت ہے جو معاشی مشکلات سے ملک کو نکالنے کے لیے کام شروع کر سکے۔

ملک کی دیگر سیاسی جماعتیں نئی اتحادی حکومت قائم کرنے پر بات چیت تو کر رہی ہیں لیکن اب تک ان کے درمیان کسی قسم کے معاہدے کے آثار نظر نہیں آئے۔ یہ بھی واضح نہیں کہ سیاسی جماعتوں کے فیصلے سے عوام اتفاق کرتے ہیں یا نہیں۔

ملک کے آئین کے تحت اگر صدر مستعفی ہو جاتے ہیں تو ان کی جگہ وزیر اعظم سنبھال سکتے ہیں۔ سری لنکا میں وزیر اعظم کو پارلیمان میں صدر کا نائب تصور کیا جاتا ہے۔

لیکن موجودہ وزیر اعظم وکرما سنگھے بھی ملک میں کافی ناپسندیدہ شخصیت بن چکے ہیں۔

سنیچر کے دن مشتعل مظاہرین نے وزیر اعظم وکرما سنگھے کی نجی رہائش گاہ کو نظر آتش کر دیا تھا جب وہ اور ان کا خاندان وہاں موجود نہیں تھے۔ انھوں نے بعد میں اعلان کیا تھا کہ نئی اتحای حکومت کو راستہ فراہم کرنے کے لیے وہ بھی مستعفی ہو جائیں گے لیکن انھوں نے کوئی تاریخ نہیں دی تھی۔

سری لنکا کے آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے میں نگران صدر کے طور پر ملک کی پارلیمان کے سپیکر کام کر سکتے ہیں۔

لیکن موجودہ سپیکر مہندا یاپا ابیوردنا بھی راجا پکشے خاندان کے قریبی ساتھی اور اتحادی سمجھے جاتے ہیں۔ اور یہ واضح نہیں کہ ان کو اس اختیار کی منتقلی کو عوام قبول کریں گے یا نہیں۔

جو بھی ملک کا نگران صدر بنے گا، اسے اگلے 30 دن میں موجودہ پارلیمنٹ کے اراکین میں سے نئے صدر کے انتخاب کے لیے الیکشن کروانا ہو گا۔ اس ووٹ میں جیتنے والی شخصیت 2024 تک کی باقی ماندہ مدت بطور صدر پوری کر سکتی ہے۔

پیر کے دن سری لنکا کی حزب اختلاف کے اہم رہنما سجتھ پریماداسا کے حوالے یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ وہ بھی صدارت کے امیدوار ہو سکتے ہیں۔ لیکن سری لنکا میں اس وقت عوام میں سیاست دانوں پر بھروسہ نہیں کیا جا رہا اور ان کے پاس عوامی حمایت بھی موجود نہیں ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ سری لنکا میں سیاسی تبدیلی لانے والی احتجاجی مہم میں ملک کی رہنمائی کے لیے کوئی بھی واضح امیدوار نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں