یمن میں چار بچے بارودی سرنگوں کی زد میں آکر جاں بحق
خونی واقعہ ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقے میں پیش آیا
مغربی یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے زیر کنٹرول علاقے میں چار بچے بارودی سرنگوں کی زد میں آکر جاں بحق ہو گئے۔ جاں بحق ہونے والے ایک بچے کے والد اور محکمہ صحت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بارودی سرنگوں کی زد میں بچے اس وقت آئے جب ایک بچے کا پاوں بارودی سرنگ کے اوپر آگیا ۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ 'سات بچوں کا ایک گروپ بحر احمر کے ایک شہر میں ائیر پورٹ کے نزدیک سے کھلے علاقے میں پیدل جا رہا تھا، اس علاقے میں بارودی سرنگیں زیر زمین بچھائی گئی تھیں۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں بارودی سرنگیں شہریوں کی زندگی کے لیے ایک مسلسل خطرے کے باعث ہیں۔
ان سات بچوں میں سے تین بچے بارودی سرنگوں کے پھٹنے سے موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ چوتھے بچے کا ہسپتال پہنچنے کے بعد انتقال ہوا ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان جاں بحق ہونےوالے بچوں کی عمریں دس سے پندرہ سال تک تھیں۔
ایک بچے کے والد یحییٰ عبداللہ نے کہا 'یہ بچے صبح کے وقت جب اس حادثے کا شکار ہوئے تو اس وقت ہم گھروں ابھی سو رہے تھے۔ اس حادثے کے بعد ایک بچے نے جائے حادثہ سے واپس پہنچ کر ہمیں اطلاع دی۔ میں فورا جائے حادثہ پر پہنچا تو دیکھا کہ میرے دو بچوں میں سے ایک کا انتقال ہو چکا تھا اور دوسرا زخمی تھا۔ میں نے اپنے بچے کے پیٹ کو ڈھانپ دیا جس پر بری طرح زخم لگے تھے۔ اسے ہسپتال لے کر گیا مگر آپریشن تھیٹر میں اس کا انتقال ہو گیا ۔'
اس بارے اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق ادارے 'یو این ایچ سی آر ' کے ترجمان لز تھروسیل نے چھلے ماہ کہا تھا ' یہ بارودی سرنگیں بچوں کے لیے بطور خاص خطرہ ہیں۔ اگرچہ ماہ اپریل میں جنگ بندی ہو گئی تھی مگر اس کے باوجود بچوں اور دوسرے شہریوں کے لیے یہ خطرہ مسلسل موجود ہے۔ '
-
یمن میں جنگ بندی کے لیے تمام اقدامات کی حمایت کرتے ہیں: عرب اتحاد
ایرانی حمایت یافتہ حوثی دہشت گردی کی جانب سے شروع کردہ دہشت گرد کارروائیوں پر قابو ...
بين الاقوامى -
’جزیرہ نما عرب کا ’سوئٹزرلینڈ‘ ،یمن جنگ کے جھنم کے قریب جنت نظیر وادی
یمن کا خوبصورت اور قدرتی سیاحتی مقام
ایڈیٹر کی پسند -
یمن کے متحارب فریق جنگ بندی میں چھے ماہ کی توسیع کریں: اقوام متحدہ
اقوام متحدہ نے یمن کے متحارب فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی میں چھے ماہ کی ...
بين الاقوامى