امریکی حکام نے 20000 پاونڈ وزن کے برابر نشہ پیدا کرنے والے پودے قات کے پتے پکڑ لیے ہیں۔ امریکی کسٹم اور بارڈر پروٹیکشن سے متعلق ادارے نے منشیات سمگلروں کی یہ کوشش چند دن پہلے ناکام بنائی تھی۔ جس کا اب باضابطہ اعلان کیا گیا ہے۔ یہ نشہ آور مواد کینیا سے امریکا لایا جا رہا تھا۔
قات کے یہ دس ٹن سے زیادہ پتے خشک کر کے لائے جا رہے تھے اور ظاہر کیا گیا تھا یہ چائے کی پتی ہے۔ چائے کی پتی کے طور پر امریکا لائے جانے والے قات کے ان پتوں کی مالیت 3،6 ملین ڈالر بتائی جاتی ہے۔
قات بنیادی طور پر افریقی ممالک میں زیادہ پایا جانے والا پودا ہے۔ تاہم یہ جنوب مغربی جزیرہ نما عرب میں بھی پایا جاتا ہے۔ امریکی کسٹم حکام نے سیٹل سے متصل پوجٹ ساونڈ میں اس منشیاتی کھیپ کو پکڑا ہے۔ اس علاقے سے منشیات کی یہ سب سے بڑی کھیپ تھی جسے اب تک پکڑا گیا ہے۔
اس کی امریکا لائی جانے والی اس کھیپ کو ملک کے مغربی ساحلی علاقے سے اندر لانے کی کوشش کی گئی تھی۔ قات کے پتوں میں ایک خاص قسم کا کیمیکل پایا جاتا ہے جو نشے اور جوش پیدا کرتا ہے۔ اس کے خشک پتوں کو نشہ کرنے والے چباتے ہیں یا چائے میں ابال کر استعمال کرتے ہیں۔
امریکا میں قات کو منشیات کے حوالے شیڈول ایک میں رکھا گیا ہے اور اس کے رکھنے یا لانے پر سخت ترین سزا ہے۔ قات کو 1987 سے امریکا میں غیر قانونی قرار دیا جا چکا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ قات کی اس بڑی کھیپ کو پکڑنے کی کوشش یو ایس ہوم لینڈ سکیورٹی ایجنسیز، کسٹم حکام اور امریکی کوسٹ گارڈز نے مل کر کی، جسے سیٹل میری ٹائم پورٹ پر کامیابی ملی۔