امریکی صدر جو بائیڈن اور یورپی یونین نے متنازع ناول نگار اور ادیب سلمان رشدی پر قاتلانہ حملے کی مذمت کی ہے۔
سلمان رشدی جمعہ کے روز تیز چاقو سے کیے گئے حملے کے نتیجے میں زخمی ہونے کے بعد ابھی ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ رشدی کو ایک لبنانی نژاد امریکی نوجوان ہادی مطر نے چاقو سے ایک تقریب کے دوران نشانہ بنایا تھا۔
جو بائیڈن نے رشدی کی تعریف کرتے ہوئے ’’کہ وہ اہنے موقف پر کھڑا رہا اور اس نے خاموش ہونے سے انکار کر دیا۔‘‘ امریکی صدر نے اپنی، اپنی اہلیہ جل بائیڈن اور امریکیوں کی طرف سے رشدی کی صحت یابی کی دعا کی ہے۔
دوری جانب یورپی یونین کے فارن پالیسی چیف جوزپ بوریل نے بھی رشدی پر حملے کی سخت مذمت کی ہے اور جلد صحت یابی کی دعا کی ہے۔