ترک صدرایردوآن نے روس کے مقابلے میں کھل کر یوکرین کی حمایت کردی
ترک صدر رجب طیب ایردوان نے جمعرات کو یوکرین کی کھل کرحمایت کا اظہارکیااورخبردارکیا ہے کہ حملہ آور روسی افواج کے زیرقبضہ یوکرین کا ایک جوہری بجلی گھر’’ایک اور چرنوبل‘‘ ایسی تباہی کے خطرے سے دوچارہواچاہتا ہے۔
ترک رہ نما نے روسی صدر ولادی میرپوتین کے ساتھ سیاحتی مقام سوچی میں مذاکرات سے صرف دو ہفتے کے بعد لفیف میں اپنے یوکرینی ہم منصب ولودی میر زیلنسکی سے ملاقات کی ہے۔اس میں فریقین نے دوطرفہ اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کا عہد کیا ہے اور دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر بات چیت کی ہے۔
Today, we arrived in Lviv for a one-day working visit at the invitation of President Zelensky of Ukraine.
— Recep Tayyip Erdoğan (@RTErdogan) August 18, 2022
We assessed all aspects of 🇹🇷🇺🇦 ties with Mr Zelensky and held a trilateral summit with the participation of UN Secretary-General António Guterres. pic.twitter.com/eE2d6HLKXG
صدر ایردوآن نے صحافیوں کوبتایاکہ نیٹو کا رکن ترکی اس تنازع میں یوکرین کی حمایت میں پختہ عزم کے ساتھ کاربند ہےاور وہ جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔
رجب طیب ایردوآن نے کہا کہ ہم بحران کا حل تلاش کرنے کی کوششیں جاری رکھیں گے اور اس ضمن مں ہم یوکرین کے دوستوں کے شانہ بشانہ ہیں۔
ترک صدر کی زیلنسکی اور اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوٹیرس،دونوں کے ساتھ اکٹھے روس کے فروری میں حملے کے بعد پہلی ملاقات کی ہے۔اس دوران میں یوکرین کے زپوریژیا جوہری بجلی گھر کے ارد گرد پھیلی لڑائی کے بارے میں عالمی سطح پرخطرات کا انتباہ کیا جارہا ہے۔
روس کے زیر قبضہ اس تنصیب پرگذشتہ کئی روز سے گولہ باری ہو رہی ہے۔ترک صدر نے کہا کہ ہم یہ صورت حال دیکھ کرپریشان ہیں اور ایک اور چرنوبل کو نہیں دیکھا چاہتے ہیں۔
طیب ایردوآن نے صحافیوں سے گفتگو میں صرف ایک بار روسی صدر ولادی میرپوتین کا ذکر کیا۔انھوں نے کہا کہ ہم نے جنگی قیدیوں کے تبادلے اور اس سلسلے میں اپنے اقدامات پرتبادلہ خیال کیا ہے اور کہا کہ’’ ہم مسٹر پوتین کے ساتھ اس بارے میں بات کرتے رہیں گے‘‘۔
Since the beginning of the war, we have dispatched 98 humanitarian aid trucks to meet the Ukrainian people's urgent needs.
— Recep Tayyip Erdoğan (@RTErdogan) August 18, 2022
We have been temporarily hosting nearly 325,000 Ukrainians. pic.twitter.com/1Wu7M2Uez6