فلسطینی این جی اوز پراسرائیلی پابندیاں، یورپی یونین نے مسترد کر دی

امریکہ نے جواب مانگ لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل فلسطینی این جی اوز کے کام کرنے پر لگائی گی پابندیوں سے متعلق امریکہ کو اضافی معلومات بھی فراہم کرے گا۔ اس امر کا اظہار جمعرات کے روز امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے ہفتہ وار بریفنگ کے موقع پر کیا ہے۔ امریکی ترجمان نے فلسطینی سول سوسائٹی کی این جی اوز پر لگائی گئی پابندیوں پر تشویش بھی ظاہر کی۔

امریکی ترجمان کا کہنا تھا ' اسرائیلی حکام کے ساتھ اس سلسلے میں اعلٰی سطح پر رابطہ کیا گیا ہے تاکہ مزید معلومات حاصل کی جا سکیں کہ سات این جی اوز کے مغربی کنارے میں واقع دفاتر پر اسرئیلی فورسز نے کیوں چھاپے مارے۔ ' اسرائیل کا الزام ہے کہ یہ این جی اوز عسکریت پسندوں کو مالی مدد دیتی ہیں۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ' ہم فراہم کردہ معلومات کا خود جائزہ لیں گے اور اپنا نتیجہ خود اخذ کریں گے۔ '

نیڈ پرائس نے کہا 'اسرائیل کے اس اقدام کی اقوام متحدہ کی طرف سے مذمت کی گئی ہے کہ اسرائیلی الزامات کو ثابت کرنے کے لیے کوئی قابل اعتماد شہادت نہیں ہے۔' انہوں نے یہ بھی کہا ' اگرچہ اسرائیل نے اقوام متحدہ کو اس بارے میں ٹھوس ثبوت پیش کرنے کی پیش کش کی تھی مگر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے بقول کوئی ایسی چیز فراہم نہیں کی گئی ہے جو اسرائیلی پابندیوں کا درست جواز مانی جا سکتی ہو۔ یہ اسرائیلی پابندیاں مکمل طور پر من مانی پر مبنی ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق پابندی کی زد میں آنے والی این جی اوز میں ' الحق ، فلسطینی قیدیوں کے لیے کام کرنے والی این جی او بسان سنٹر فار ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیفینس فار چلڈرن انٹر نیشنل پیلسٹائین ، ہیلتھ ور کمیٹی ، یونین آف ایگریکلچرورک کمیٹی، یونین آف پیلسٹائین کمیٹی شامل ہیں۔ یورپی یونین نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ ان تمام این جی اوز کے ساتھ کام کرتی رہے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں