فلسطینی علاقے غزہ کی پٹی کو نشانہ بنانے والے حملے کے ایک ہفتے سے زیادہ عرصے کے بعد اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایویو کوچاوی نے انکشاف کیا ہےکہ ان کے ملک کی افواج نے غزہ پر حملے کے دوران ایک تیسرے ملک پر بھی بمباری کی ہے۔
انہوں نے جمعرات کو یونین آف لوکل اتھارٹیز کانفرنس سے خطاب میں اسلامی جہاد تحریک کے رہ نما کے حوالے سے مزید کہا کہ "دس دن پہلے اسرائیلی فوج نے انتہائی درستگی کے ساتھ آپریشن میں تیسیر الجعبری کو نشانہ بنایا۔
گرفتاریوں کی مہم اور تیسرا ملک
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "اسی وقت، فوج نے مغربی کنارے میں گرفتاریوں کی مہم چلائی، تیسرے ملک پر حملہ کیا اور ملک کی باقی سرحدوں کا دفاع کیا تاہم انہوں نے اس تیسرے ملک کا نام نہیں لیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اسرائیل نے اس ماہ (اگست) کے شروع میں فضائی حملے اور بھاری توپ خانے سے غزہ پر چڑھائی کی تھی۔ اس آپریشن کے دوران غزہ میں اسلامی جہاد تنظیم کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
اسرائیلی فورسز نے اپنی کارروائی کو اسلامی جہاد پر مرکوز کیا جو کہ ایران کی حمایت یافتہ مسلح گروپ ہے، جبکہ حماس کے ساتھ براہ راست تصادم سے گریز کیا، جو کہ 2007 سے ساحلی غزہ کی پٹی پر حکمرانی کرنے والی سب سے بڑی تحریک ہے۔
دریں اثنا اسلامی جہاد اور تل ابیب کے درمیان مصر کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی سے قبل تین روزہ کشیدگی کے نتیجے میں درجنوں فلسطینی شہید ہوگئے تھے۔