طیب ایردوآن ترکی کی شنگھائی تعاون تنظیم میں شمولیت کے خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترک صدررجب طیب ایردوآن کا کہنا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) میں ملک کی شمولیت ان کا ہدف ہے۔

سرکاری نشریاتی ادارے این ٹی وی کے مطابق صدرایردوآن امریکا روانہ ہونے سے قبل ازبکستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں شرکت کے بعد صحافیوں سے بات چیت کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ اس اقدام سے تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات بہت مختلف پوزیشن پر ہوں گے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کا مطلب شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت ہے تو انھوں نے کہا کہ یقیناً یہی ہدف ہے۔

ترکی معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم (نیٹو) کا دیرینہ رکن ملک ہے اوراس وقت شنگھائی تعاون تنظیم کا مکالمہ شراکت دار ہے۔نیٹو اور ایس سی او تزویراتی لحاظ سے ایک دوسرے کی ضد ہیں۔آٹھ ممالک چین، روس، بھارت، پاکستان، ایران، کرغزستان، تاجکستان، قزاقستان اورازبکستان اس کے ارکان ہیں۔ترکی کے علاوہ پانچ ممالک تنظیم کے مکالمہ شراکت دار ہیں اور چار کو مبصر کادرجہ حاصل ہے۔

ازبک شہر سمرقند میں تنظیم کے حالیہ سربراہ اجلاس کے موقع پر رجب طیب ایردوآن نے روسی صدر ولادی میرپوتین سے بات چیت کی۔انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ترکی کے جنوبی علاقے اکویو میں تعمیر کیے جانے والے جوہری بجلی گھر کے تنازع کو حل کرنے کے لیے ایک معاہدے پراتفاق ہوگیا ہے۔

این ٹی وی نے صدر ایردوآن کے حوالے سے خبردی ہے کہ اس منصوبہ پرترک ٹھیکے دار آئی سی آئی اکتاس کوبحال کر دیا گیا ہے۔دو ذرائع نے بھی اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔

گذشتہ ماہ روس کی سرکاری جوہری توانائی کمپنی رستم نے، جو اس منصوبے کو چلارہی ہے، آئی سی آئی اکتاس کے ساتھ اپنا معاہدہ ختم کردیا تھا۔اس نے ترک فرم کی ’’بے شمارخلاف ورزیوں‘‘کو اس فیصلے کا سبب قراردیا تھا۔

صدر ایردوآن نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ’’اللہ نے چاہا تو ہم 2023 میں (اکویو) کے پہلے یونٹ کو مکمل کرلیں گے اور اس کا افتتاح کر سکیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں