.

میانمار میں سکول پر ہیلی کاپٹروں کی فائرنگ سے 6 افراد ہلاک

فوج کا عمارت میں باغی موجود ہونے کا دعویٰ، حملے میں 17 افراد زخمی بھی ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میانمار میں پیر 19 ستمبر کو فوج کے ہیلی کاپٹروں نے ایک سکول پر فائرنگ کردی۔ ذرائع ابلاغ اور مقامی افراد کے مطابق حملے میں 6 بچے ہلاک اور 17 زخمی ہوگئے ہیں۔

فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ فائرنگ اس لئے کی گئی ہے کہ باغی اس عمارت کو افواج پر حملوں کیلئے استعمال کر رہے تھے۔

میانمار میں گزشتہ سال کے اوائل میں فوج کی جانب سے منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ حکومت گرائے جانے کے بعد سے ملک بھر میں اپوزیشن کی تحریکیں برپا ہوئی ہیں۔ فوج طاقت اور تشدد سے ان تحریکوں کو کچل رہی ہے۔

رائٹرز کے مطابق ساجینگ ضلع کے گاؤں لیٹٹ کونی میں ہیلی کاپٹر کی فائرنگ کے واقعہ کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔

دو نیوز ویب سائٹس نے کہا کہ فوجی ہیلی کاپٹروں نے بدھ مت کی ایک خانقاہ میں واقع سکول پر فائرنگ کی ہے۔

کچھ بچے گولی لگنے سے موقع پر ہی ہلاک ہوگئے، بعض کو فورسز نے گاؤں میں داخل ہوکر موت کے گھاٹ اتارا۔

میانمار میں بغاوت کے سال بعد تشدد میں اضافہ

دو افراد نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی استدعا کرتے ہوئے فون پر بتایا کہ فوج نے لاشوں کو 11 کلومیٹر دور ایک قصبہ میں لے جاکر دفنا دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر پوسٹ تصویروں میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سکول کی عمارت کو نقصان پہنچا ہے، دیواروں پر گولیوں کے سوراخ اور خون کے دھبے دکھائی دے رہے ہیں۔

فوج نے اپنے بیان میں کہا باغی گروپ ’’کاچن انڈیپنڈنس آرمی‘‘اور ’’پیپلز ڈیفنس فورسز‘‘ کے ارکان خانقاہ میں چھپے ہوئے تھے اور گاؤں کو نقل و حمل کے لیے استعمال کر رہے تھے۔

فوجی ہیلی کاپٹروں نے "سنیپ سرچ" کیا اور گھروں اور خانقاہ کے اندر موجود مسلح گروپوں کے افراد کو نشانہ بنایا۔

ان افراد نے دیہاتیوں کو انسانی ڈھال کے طور پر بھی استعمال کیا تھا۔

میانمار کی جمہوریت نواز شیڈو حکومت، جسے قومی اتحاد کی حکومت کے نام سے جانا جاتا ہے، نے کہا کہ سکولوں پر ’’ٹارگٹڈ حملے‘‘ کیئے جارہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں