دلیر ایرانی خواتین کے ساتھ کھڑے ہیں: بائیڈن ، احتجاجی مظاہروں میں شدت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی صدر جو بائیڈن نے بدھ کے روز کہا ہے کہ امریکی عوام ایرانی دلیر خواتین کے ساتھ کھڑی ہے۔ مہسا امینی کی ایرانی پولیس کی حراست میں موت اور اس کے بعد آٹھ شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات کے بعد ایران میں احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ مختلف مقامات پر مظاہرے کئے گئے۔ احتجاج کے شرکا نے حکومت کے خلاف زبردست نعرہ بازی کی۔ مشتعل افراد نے ایرانی پرچم اور خامنہ ای کی سب سے بڑی تصویر کو بھی نذر آتش کردیا۔ 8 احتجاجی مظاہرین کی ہلاکت کی اطلاعات بھی سامنے آگئی ہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے خطاب کے فوراً بعد اپنے تقریر میں بائیڈن نے مظاہرین کو سلام پیش کیا اور تہران کے ساتھ جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے اپنی حمایت پر زور دیا۔

انہوں نے مزید کہا ہم ایران کے بہادر عوام اور دلیر ایرانی خواتین کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ خواتین آج اپنے بنیادی حقوق کے دفاع میں مظاہرہ کر رہی ہیں۔

ایران حکام نے 16 ستمبر کو ایران کے شمال مغربی علاقے کردستان سے تہران آنے والی 22 سالہ خاتون مہسا امینی کو مناسب حجاب نہ کرنے پر گرفتار کیا اور مہسا کی دوران حراست موت ہوگئی تھی جس کے بعد ایران بھر میں لوگوں میں غم غصہ پھیل گیا اور لوگوں نے سڑکوں پر آکر احتجاج شروع کردیا۔

مظاہرین نے کہا کہ مہسا کو سر میں چوٹ لگی تھی جس کے باعث اس کی ہلاکت ہوئی تاہم ایرانی حکام نے کسی بھی تشدد کی تردید کردی۔ احتجاج کرنے والوں نے معاملہ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر احتجاجی مظاہرین کی وائرل ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ مظاہرین میں موجود بہت سی خواتین نے اپنے سر سے سکارف اتار کر آگ میں پھینک دیا اور اس آگ سے سڑک روشن ہو گئی۔ بعض خواتین نے رد عمل میں اپنے بال کاٹ کر چھوٹے کردئیے۔ تہران میں مظاہرین نے ’’ پردہ نہیں، پگڑی نہیں بلکہ آزادی اور مساوات‘‘ کے نعرے لگائے۔

کئی شہروں میں بدھ کی رات تک مسلسل پانچویں رات مظاہرے جاری رہے۔ ارومیا اور سردشت کے علاقوں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ یہاں مظاہرین نے علی خامنہ ای کی سب سے بڑی تصویر اور ایرانی پرچم کو آگ لگا دی تھی۔

جنوبی ایران میں بھی بدھ کے روز مظاہرے کئے گئے۔ اس احتجاج کے دوران 2020 میں عراق میں امریکی حملے می مارے گئے ایرانی کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی ایک بڑی تصویر کو آگ لگا دی گئی جس کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق احتجاج کا دائرہ 15 شہروں میں پھیل گیا ہے۔ پولیس نے اس دوران آنسو گیس کی شیلنگ کی اور لوگوں کی بڑی تعداد کو منتشر کردیا۔

لندن میں سرگرم انسانی حقوق گروپ ’’ آرٹیکل 19 ‘‘ نے کہا ایران میں پرامن مظاہرین کیخلاف سکیورٹی فورسز کی طرف سے طاقت کے غیر قانونی استعمال پر گہری تشویش ہے۔ بالخصوص مظاہرین پر گولہ بارود کا استعمال انتہائی قابل مذمت ہے۔

خبر ایجنسی ’’ ارنا ‘‘ کے مطابق کچھ علاقوں میں مظاہرین نے کنٹینرز کھڑے کرکے ٹریفک بلاک کردی اور پولیس کی گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ فورسز پر پتھراؤ کیا گیا۔ بدھ کی رات تہران، مشہد، تبریز، اصفہان اور شیراز سمیت کئی شہر میدان جنگ بنے رہے۔

انٹرنیٹ پر ہونے والی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والی تنظیم ’’ نیٹ بلاکس‘‘ کے مطابق سوشل میڈیا پر پھیلنے والی ویڈیوز سے جانا جا سکتا ہے کہ مشتعل ایرانی عوام نے حکام کے خلاف شدید احتجاج کیا اور اس دوران ’’ آمر مردہ باد‘‘ اور ’’ خواتین، زندگی، آزادی‘‘ کے نعرے لگائے۔

اسی تناظر میں ایرانی میڈیا اور براڈ کاسٹر محمود شہر یاری نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں ملنے والی اطلاعات کے مطابق ایرانی حکومتی عناصر احتجاج کے خلاف جذبات کو بر انگیختہ کرنے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے اپنانے کی کوشش میں ہیں ۔ بعض عناصر اتوار کے روز قرآن مجید کو جلانے اور خواتین کے چہروں سے نقاب ہٹانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کے اس عمل کو بنیاد بنا کر حکومت مظاہرین کو الزامات کا نشانہ بنائے گی۔ محمود شیرازی نے کہا یاد رکھا جائے ہم آزادی کے طالب علم ہیں اور اپنے ذاتی فیصلے سے پردہ کرنے والوں کا پورا احترام کرتے ہیں۔

دوہرا معیار

بدھ کی صبح اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر نے تہران میں کی گئی اپنی تقریر میں مہسا امینی کی موت کا تذکرہ نہ کیا تاہم انہوں نے اپنے خطاب میں کینیڈا میں مقامی خواتین کی ہلاکت، فلسطین میں اسرائیلی جارحیتوں اور مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والی خواتین سے کی جانے والی بربریت کا تذکرہ کرکے اس کی مذمت کی۔

انہوں نے کہا کہ جب تک ہم دوہرا معیار اپناتے رہیں گے اور توجہ صرف ایک جانب مرکوز کئے رکھیں گے حقیقی انصاف اورمساوات حاصل نہیں ہوسکتی۔

اپنے خطاب میں ایرانی سپریم لیڈر نے 2015 کے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کیلئے عائد کی جانے والی مغربی شرائط کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا ایران جوہری ہتھیار بنانے یا رکھنے کی کوشش نہیں کر رہا۔ ان ہتھیاروں کی ہمارے عقیدے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

دوسری طرف برطانوی وزیر خارجہ جیمز کلیورلی نے نیویارک میں اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی رہنماؤں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کی عوام ان کے اپنائے گئے طرز عمل سے مطمئن نہیں ہے۔ ایرانی حکام جوہری ہتھیاروں کے حصول کے عزم سے پیچھے ہٹ سکتے ہیں۔ یہ اپنے ملک میں اٹھنے والی آوازوں کو دبانے سے کنارہ کشی کر سکتے ہیں ۔ مزید یہ کہ ایرانی حکمرانوں کو عدم استحکام کی اپنی پالیسیوں میں بھی تبدیلی لانا ہوگی۔

انہوں نے کہا ایرانی رہنماؤں کو اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ ایرانی عوام اتنی پریشان کیوں ہے۔ کیا پریشانی کو ختم کرنے کا کوئی دوسرا طریقہ موجود ہے؟ کیا وہ عوامی پریشانی کو ختم کرنے کیلئے مضبوط معیشت اور عالمی برادری کے ساتھ زیادہ فعال روابط بحال کرنے کا راستہ نہیں اپنا سکتے۔

فرانسیسی صدر میکرون نے کہا کہ انہوں نے ایرانی صدر رئیسی سے منگل کو جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر ملاقات میں کہا تھا کہ وہ خواتین کے حقوق کا احترام کریں۔

بڑا دھچکا

یاد رہے نومبر 2019 میں ایندھن کی اونچی قیمتوں پر ہونے والی بدامنی کے بعد یہ ایران میں برپا ہونے والا سنگین ترین احتجاج ہے۔ ان مظاہروں سے ایران کو بڑا دھچکا لگا ہے۔

’’ ایریس‘‘ مرکز کے تحقیق کار ڈیوڈ ریگولیٹ روز نے کہا کہ حالیہ مظاہرے ایران میں اہم ہنگامی آرائی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ پیش گوئی کرنا ممکن نہیں کہ اس احتجاج کو ختم کرنا کیسے ممکن ہوگا۔ یہ وہ موقع ہے کہ اسلامی انقلاب کے تصور میں پھنسے حکمرانوں اور سکیولر ہوتے معاشرے میں دوریاں بہت بڑھ گئی ہیں۔

آٹھ مظاہرین مارے گئے

صوبہ کرمانشاہ کے پراسیکیوٹر شہرام کرامی نے بتایا ان فسادات کی ذمہ دار ایران کے انقلابی تصور رکھنے والے عناصر ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیم ’’ ہینکاؤ‘‘ کے مطابق شمال مغرب میں مغربی آذر بائیجان صوبہ میں بدھ کی رات مظاہرے کے دوران 16 اور 23 سال کی عمر کے مظاہرین کو قتل کردیا گیا ہے۔

مظاہرہ کرنے والے 450 افراد زخمی اور 500 کو گرفتار کرلیا گیا۔ آزاد ذرائع سے ان اعداد و شمار کی تصدیق نہیں کی جا سکی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد آٹھ ہو گئی ہے جن میں 6 مرد، ایک عورت اور ایک بچہ شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں