ایران میں حالیہ احتجاج کی ایک وائرل ویڈیومیں نمودار ہونے والی ایک اورنوجوان خاتون کو مبیّنہ طورپر سکیورٹی فورسز نے گولی مار قتل کردیا ہے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کی اطلاعات کے مطابق 23 سالہ خاتون حدیث نجفی کی اس ہفتے کے اوائل میں حکومت مخالف مظاہروں میں شامل ہونے کی تیاری کی ایک ویڈیو منظرعام پرآئی تھی اور یہ بہت جلد وائرل ہوگئی تھیں۔
ایرانی صحافی فرزاد سیفی کران نے خبردی ہے کہ نجفی بدھ کے روز کرج شہر میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئی تھیں اور ان کے چہرے اور گردن پر کئی گولیاں لگی تھیں۔
سرگرم کارکنوں نے بھی تصدیق کی ہے کہ مقتولہ نجفی وہی خاتون ہیں جووائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں حکومت مخالف مظاہروں میں شامل ہونے کی تیاری کررہی تھیں۔ان کے اہل خانہ نے اتوار کے روز ان کے جنازے کی فوٹیج جاری کی ہے۔
This was Hadis Najafi preparing to fight the Islamic Republic, empty handed.
— NUFDI (@NUFDIran) September 25, 2022
Khamenei's men fired six bullets into her heart and killed her.
The regime in #Iran is trying to eliminate the country's bravest youth. Don't let them do it with your silence.#حدیث_نجفی #مهسا__امینی pic.twitter.com/4xSXfyTQhA
ایران میں 16ستمبر کو نامناسب سرپوش اوڑھنے کی پاداش میں 22 سالہ مہسا امینی کی مذہبی پولیس کے زیرحراست ہلاکت کے بعد سے پُرتشدد مظاہرے جاری ہیں۔امینی کو13 ستمبر کواخلاقی پولیس نے مبیّنہ طور پرملک میں نافذالعمل لباس کے سخت ضابطۂ اخلاق پرعمل نہ کرنےپرگرفتار کیا تھا۔
ان کی ہلاکت کے واقعے کے ردعمل میں ایران کے مختلف شہروں میں رات کے وقت ہونے والے مظاہروں کے دوران میں چالیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور سینکڑوں کو گرفتارکرلیا گیا ہے۔مہلوکین اور زخمیوں میں زیادہ ترمظاہرین ہیں لیکن ان میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی شامل ہیں۔