قزاقستان:سابق صدر کے بھتیجے کو غبن کے الزام میں 6 سال قید کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

قزاقستان کی ایک عدالت نے پیر کے روز سابق صدر نورسلطان نذراے بائیوف کے بھتیجے کوغبن کے الزام میں چھے سال قید کی سزا سنائی ہے۔تیل کی دولت سے مالامال وسط ایشیائی ملک کے طاقتور رہ نما کے قریبی رشتہ دار کے خلاف اس نوعیت کا یہ پہلا فیصلہ ہے۔

عدالت نے کاروباری شخصیت کیرات ستی بالدی کو سرکاری کمپنیوں سے رقوم کی خرد برد کا مجرم قرار دیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ستی بالدی کو مارچ میں حراست میں لیا گیا تھا،انھوں نے اپنے جرم کا اعتراف کیا تھا اور انھوں نے پلی بارگین کے تحت ریاست کو 50 کروڑڈالر سے زیادہ کی رقم ادا کر دی ہے۔

واضح رہے کہ تین دہائیوں تک سابق سوویت ملک پرحکمرانی کرنے کے بعد نذربائیف نے 2019 میں صدر کے عہدے سے استعفا دے دیا تھا اور قاسم جومارٹ توکایف کو اپنا جانشین بنانے کی حمایت کی تھی۔ تاہم سابق صدر نے ملک کی سلامتی کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے وسیع اختیارات اپنے پاس برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

توکایف اور نذربائیف جنوری میں اس وقت الگ ہو گئے تھے جب ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف سڑکوں پرہزاروں لوگوں نے مظاہرے کیے تھے اور یہ سنہ1991 میں سابق سوویت یونین سے آزادی حاصل کرنے کے بعد سے ملک میں سیاسی تشدد کا سب سے مہلک واقعہ بن گئے تھے۔

توکایف نے نذربائیف کے باقی اختیارات پر قبضہ کر لیا تھا اور سابق صدر کے متعدد رشتہ داروں نے فوری طور پرعہدے چھوڑ دیے تھے یا انھیں سرکاری شعبے کی اعلیٰ ملازمتوں سے برخاست کردیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں