یمن جنگ بندی میں توسیع کیلئے سعودی حمایت کا خیر مقدم کرتے: امریکہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی محکمہ خارجہ نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن نے یمن میں جنگ بندی میں توسیع کے لیے سعودی عرب کی حمایت کا خیر مقدم کیا ہے۔

خیال رہے یمن میں اقوام متحدہ کی جنگ بندی کی مدت میں توسیع کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی، یہ مدت اتوار کو ختم ہو رہی۔ اسی تناظر میں امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے تازہ ترین پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔

امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ فیصل بن فرحان اور بلنکن نے یمن میں امن قائم کرنے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔ بلنکن نے کہا کہ عالمی برادری کی جانب سے یمن کی صدارتی کونسل کی مسلسل حمایت ضروری ہے۔

یمن میں جنگ بندی میں توسیع نہ ہونے پر یمن میں امریکی سفیر سٹیو فیگن نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعہ سفیر نے یمنی فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ گزشتہ چھ ماہ کی کوششوں کو ضائع نہ کریں اور جنگ بندی میں توسیع کو فوری قبول کر لیں۔

یمنی حکومت نے ہفتہ کے روز کہا کہ وہ توسیع کی تجویز کے ساتھ مثبت طور پر نمٹے گی۔ حوثی بغاوت کے ترجمان محمد عبدالسلام نے اعلان کیا کہ مفاہمت ختم ہو چکی ہے۔

محمد عبد السلام نے اپنے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر کہا کہ جنگ بندی کے چھ ماہ کے دوران ہم نے دوسری جانب سے معاملہ کے انسانی بنیادوں پر فوری حل میں کوئی سنجیدگی نہیں دیکھی۔

خیال رہے اقوام متحدہ نے 2 اگست کو اعلان کیا تھا کہ یمن میں دونوں فریقوں نے پرانی شرائط پر ہی جنگ بندی میں مزید دو ماہ کی توسیع پر اتفاق کرلیا ہے ۔ جس کے بعد جنگ بندی میں 2 اکتوبر تک توسیع ہو گئی ہے۔

یاد رہے اس جنگ بندی کا آغاز اپریل میں ہوا تھا جب اقوام متحدہ نے دو ماہ کیلئے یمن کے تمام محاذوں پر جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔

اقوام متحدہ نے 2 اکتوبر کو مدت خاتمے پر جنگ بندی میں دوبارہ توسیع پر زور دیا اور کہا ہے کہ فوری جنگ بندی انسانی ضرورت بن چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں