امریکی ری فیولنگ طیاروں کی اسرائیلی اڈوں پر آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز بتایا کہ امریکہ کے فضائی ایندھن فراہم کرنے والے فوجی طیارے، جو حال ہی میں اسرائیل پہنچے، لاجسٹک اور آپریشنل ضروریات کے تحت اسرائیلی فوجی اڈوں پر اتارے گئے ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران واشنگٹن خطے میں اپنی فوجی موجودگی مزید مضبوط کر رہا ہے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق یہ فیصلہ امریکہ کے ساتھ مکمل رابطے اور تعاون سے کیا گیا تاکہ امریکی افواج کی تعیناتی کو آسان بنایا جا سکے اور ساتھ ہی شہری فضائی ٹریفک پر کم سے کم اثر پڑے۔

فوج نے واضح کیا کہ ان طیاروں نے بن گوریون بین الاقوامی ہوائی اڈے کے بجائے اسرائیل کے مختلف فوجی فضائی اڈوں پر لینڈنگ کی۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ اقدام شہری پروازوں کی روانی برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا، جبکہ اسرائیل اس وقت خطے میں جاری فوجی کارروائیوں کے تناظر میں امریکی فوجی کمک وصول کر رہا ہے۔

فوجی اڈوں پر تعیناتی

ٹائمز آف اسرائیل کے عسکری امور کے نمائندے ایمانوئیل فابیان کے مطابق اسرائیلی فوج نے بتایا ہے کہ فضائی ایندھن فراہم کرنے والے درجنوں اضافی امریکی طیارے بن گوریون ہوائی اڈے کے بجائے اسرائیلی فضائیہ کے فوجی اڈوں پر تعینات کیے جائیں گے۔

اس سے قبل اسرائیلی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے موسمِ گرما میں فضائی سفر کے دوران پروازوں میں خلل سے بچنے کے لیے بن گوریون ایئرپورٹ پر زیادہ سے زیادہ 20 طیاروں کی حد مقرر کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق فوجی اڈوں پر ان طیاروں کی تعیناتی کا فیصلہ امریکہ نے اسرائیلی فوج کے ساتھ قریبی رابطے میں کیا، جبکہ اسرائیلی فوج نے ان کی آمد کے لیے پہلے سے انتظامات مکمل کر رکھے تھے۔

فوج کا کہنا ہے کہ وہ امریکی افواج کی تعیناتی میں تعاون کے ساتھ ساتھ شہری فضائی ٹریفک کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھ رہی ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے ،جب امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی مسلسل بڑھا رہا ہے۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران واشنگٹن نے خطے میں لڑاکا طیارے، اسٹریٹجک بمبار اور فضائی ایندھن فراہم کرنے والے طیارے تعینات کیے ہیں، جبکہ ایران کے اندر امریکی حملے جاری ہیں اور خطے میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اہم کردار

فضائی ایندھن فراہم کرنے والے طیارے طویل فاصلے کی فضائی کارروائیوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ طیارے لڑاکا جہازوں اور بمبار طیاروں کو فضا میں زیادہ دیر تک موجود رہنے اور اپنی کارروائیوں کا دائرہ بڑھانے میں مدد دیتے ہیں، کیونکہ انہیں ایندھن بھرنے کے لیے بار بار زمین پر اترنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

اس صلاحیت سے امریکی اور اسرائیلی افواج کو فضائی مشن انجام دینے میں زیادہ لچک اور وسعت حاصل ہوتی ہے، خاص طور پر اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے۔

یہ پیش رفت ان رپورٹس کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے ،جن میں بتایا گیا تھا کہ ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں امریکہ نے یورپ سے اپنے لڑاکا طیارے مشرقِ وسطیٰ منتقل کیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں