واضح ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایرانی دھمکیوں کے مقابلے میں ایسے عسکری راستے استعمال کر رہے ہیں جو امریکی برتری اور ایران کو مذاکرات یا امریکی مطالبات ماننے پر مجبور کرنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ امریکہ نے آبنائے ہرمز میں دہری کارروائی شروع کی ہے... ایک جانب وہ ایرانی اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے اور دوسری جانب بحری جہازوں کا محاصرہ کر رہا ہے۔
العربیہ/الحدث سے بات کرتے ہوئے امریکی حکام نے زور دیا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کو مذاکرات کا موقع دیا، لیکن ایرانیوں نے فریم ورک معاہدے کے بجائے گذشتہ ہفتے بین الاقوامی پانیوں میں 3 تجارتی جہازوں پر حملہ کیا۔ ایک عہدیدار نے بتایا کہ فریم ورک کے اعلان کے بعد سے ایرانیوں نے 23 جہازوں پر بمباری کی، جس سے تقریباً 12 ملاح ہلاک ہوئے۔
امریکی حکام نے تصدیق کی کہ امریکہ ایران کو سزا دینے کے عمل میں ہے، وہ آبنائے ہرمز میں ایرانی خطرات کو ختم کر رہا ہے اور بین الاقوامی جہاز رانی کو کھلے سمندر میں آزادانہ نقل و حرکت کا موقع دے رہا ہے۔ امریکی فوجی ترجمانوں کا کہنا ہے کہ سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے ما تحت فورسز ایرانی دفاعی اور جارحانہ صلاحیتوں جیسے میزائل، ڈرون، عسکری صنعت، ساز و سامان کی نقل و حمل اور بحری صلاحیتوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔
صدر کے سامنے سب سے بڑا سوال "مرحلہ نمبر دو" اور آبنائے ہرمز کے بعد کی صورت حال ہے۔ ایسے اشارے ہیں کہ امریکی فوج مشرق وسطیٰ میں اضافی ساز و سامان منتقل کر رہی ہے، جو صدر کو ایرانی انفراسٹرکچر پر وسیع حملے کا اختیار دیتا ہے، جس سے ایرانی نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ ایسی کارروائی کی دھمکی دے چکے ہیں، تاہم امریکی جائزے "بڑے حملے" کے حتمی ہونے کا اشارہ نہیں دیتے۔
العربیہ/الحدث سے گفتگو کرنے والے امریکی حکام پُر سکون تجزیہ پیش کر رہے ہیں۔ ایک عہدیدار کے مطابق بہت کچھ ایرانی فیصلوں پر منحصر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "صدر نے ایرانیوں کو درست فیصلہ کرنے کا موقع دیا، لیکن انہوں نے غلط انتخاب کیے۔ ایران سکون اختیار کرنے کے بجائے جارح بن گیا۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ وہ اب کیا کرتے ہیں۔"
انتظامیہ کے اہم افراد "فیصلہ کن ضرب" کے بارے میں بات کرنے میں محتاط ہیں کیونکہ انٹیلی جنس جائزوں کے مطابق امریکی فورسز نے ایرانی عسکری پیداواری صلاحیتوں، میزائل، ڈرون، بحری فورسز اور کمانڈ مراکز کو بڑی حد تک تباہ کر دیا ہے۔ ایک امریکی عہدیدار نے ایرانی صلاحیتوں کو شاہراہ پر کھڑے پتھر پھینکنے والے شخص سے تشبیہ دی جو ٹریفک کے لیے خطرہ تو ہے لیکن گاڑیاں اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی بمباری اب صرف نفسیاتی اثر رکھتی ہے، ایران اب بڑے پیمانے پر بمباری کی صلاحیت نہیں رکھتا اور نہ مکمل طور پر آبنائے ہرمز کو بند کر سکتا ہے۔
العربیہ/الحدث کے ذرائع کے مطابق متعدد حکام کا ماننا ہے کہ صدر کو موجودہ بمباری سے آگے جانے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ ایرانی نظام اب پہلے کسی بھی وقت سے زیادہ داخلی انقلاب اور عوامی بغاوت کے خطرے سے دوچار ہے۔ ایرانی معیشت کو مفلوج کرنے اور بغاوت کے امکانات بڑھانے کا اہم عنصر امریکی بحری محاصرہ اور ایران کے عالمی مالیاتی نیٹ ورکس کا تعاقب ہے۔
کچھ حکام کا خیال ہے کہ ایرانی نظام اور عوام کے درمیان تصادم نا گزیر ہے۔ ان کا اشارہ ہے کہ ایران برسوں تک اپنی معیشت یا جنگی صنعتوں کو بحال نہیں کر پائے گا اور چین یا روس اسے واپس اسی مقام پر نہیں لا سکیں گے جہاں وہ کچھ ماہ پہلے تھا۔ صدر ٹرمپ انتظار کر سکتے ہیں اور جو چاہیں فیصلہ کر سکتے ہیں۔ ایک عہدیدار نے کہا کہ "ایران، خطے اور امریکہ کے لیے بہترین صورتحال یہ ہے کہ ایرانی نظام ٹرمپ کے ساتھ مفاہمت کا راستہ اختیار کرے۔"
-
امریکہ، ایران حملوں میں شدت کے بعد عالمی منڈی میں تیل 16 فیصد مہنگا
جمعے کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، ...
مشرق وسطی -
ایران میں ایک شخص کو پھانسی، 2022 کے مظاہروں میں سکیورٹی ایجنٹ کے قتل کا الزام
عدلیہ کی نیوز ایجنسی میزان نے ہفتے کے روز بتایا کہ ایران نے ایک شخص کو پھانسی دے ...
مشرق وسطی -
سیکریٹری جنرل جی سی سی: ایران کے شہری تنصیبات پر حملے ’جنگی جرائم‘ ہیں
خلیج تعاون کونسل کے سیکریٹری جنرل نے ہفتے کے روز بحرین، کویت اور اردن پر حالیہ ...
مشرق وسطی