روس اور یوکرین

یوکرین میں جنگ آزما روسی فوج کے نئے کمانڈرکا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روس نے ہفتے کے روزیوکرین میں جنگ آزما اپنی فوج کی قیادت کے لیے ایک نئے جنرل کا تقررکیا ہے۔

روسی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ جنرل سرگئی سروفیکن کو’’خصوصی فوجی آپریشن کے علاقوں میں فورسز کے مشترکہ گروپ کا کمانڈر‘‘مقرر کیا گیا ہے۔اس بیان میں روسی حملے کے لیے کریملن کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔

اس فیصلے کا اعلان یوکرین میں روسی فوج کی حالیہ پے درپے شکستوں کے بعد کیا گیا ہے۔ماسکو کی افواج کو حالیہ ہفتوں میں یوکرینی فوج نے اپنے ان علاقوں سے پسپا کردیا ہے جنھیں کریملن نے ہمیشہ کے لیے روس کا حصہ قرار دینے کا دعویٰ کیا تھا۔

وزارت کی ویب سائٹ کے مطابق 55 سالہ جنرل سروفیکن سائبیریا کے علاقے نوفسیبرسک میں پیدا ہوئے تھے۔انھیں تاجکستان اور چیچنیا میں 1990 کی دہائی کے تنازعات اور حال ہی میں شام میں لڑائی کا تجربہ ہے ، جہاں ماسکو نے 2015 میں صدر بشارالاسد کی حکومت کوبچانے کے لیے مداخلت کی تھی۔

وزارت دفاع کے مطابق،اب تک جنرل سروفیکن نے یوکرین میں ’’جنوبی‘‘ افواج کی قیادت کی تھی۔ان کے پیش روکمانڈرکا نام کبھی سرکاری طورپرظاہرنہیں کیا گیا ہے ، لیکن کچھ روسی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ یہ جنرل الیگزینڈر ڈورنیکوف تھے جو دوسری چیچن جنگ لڑنے والی فوج کے جنرل تھے اور شام میں روسی فوج کے کمانڈر بھی رہے تھے۔

روسی افواج کوستمبرکے اوائل میں یوکرین کے زبردست جوابی حملے کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اس کو شمال مشرقی خطے خرکیف کے بیشتر حصے سے پسپا کردیا گیا ہے اور یوکرینی فوج نے اپنے ملک کے ہزاروں مربع کلومیٹرعلاقے کو واگزار کرالیا ہے۔روسی فوجیوں نے جنوبی علاقے کھیرسن کے کے ساتھ ساتھ مشرقی یوکرین میں لائمن کے ٹرانسپورٹ مرکز کو بھی کھو دیا ہے۔

یوکرین میں میدانِ جنگ میں ان ناکامیوں کی وجہ سے روسی اشرافیہ سمیت فوجی قیادت پرتنقید میں اضافہ ہوا۔چیچن رہنما رمضان قدیروف نے گذشتہ ہفتے ایک اعلیٰ جنرل کوبرطرف کرنے کا مطالبہ کیا تھا جبکہ ایک سینیرقانون ساز آندرے کارتاپولوف نے فوجی حکام پرزوردیا تھا کہ وہ میدان جنگ کی صورت حال کے بارے میں ’جھوٹ‘بولنا بند کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں