افغانستان وطالبان

امریکی ویزا قوانین میں تبدیلی، بعض طالبان ارکان کے ویزوں پر پابندی لگ گئی

امریکی فیصلہ دوطرفہ تعلقات کی پیش رفت میں رکاوٹ بنے گا: افغان وزارت خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکہ کی طرف سے طالبان کے بعض ارکان پر ویزے کے حوالے سے نئے قوانین کے تحت پابندیوں کے تازہ اعلان سے امریکہ اور افغان حکومت کے دوطرفہ تعلقات پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ امریکہ کی طرف سے ان نئے ویزا قوانین کا اعلان دوحہ میں امریکی اور طالبان نمائندوں کی اہم ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے۔

اس اعلان پر مبنی امریکی فیصلے کو طالبان حکومت نے بدھ کے روز دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی پیش رفت میں رکاوٹ قرار دیا ہے۔ واضح رہے جولائی 2022 میں القاعدہ سربراہ ایمن الظواہری پر کابل میں کیے گئے امریکی ڈرون حملے کے بعد امریکہ اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان دوحہ میں یہ پہلی باضابطہ ملاقات تھی۔لیکن اس ملاقات کے اگلے ہی دو تین روز میں امریکہ کا ویزا قوانین تبدیلی کا اعلان ہو گیا۔

افغانستان سے پچھلے سال پندرہ اگست کو مکمل ہونے والے امریکی انخلا کے بعد سے طالبان کی حکومت دوبارہ بن چکی ہے ، ان کی حکومت پر الزام ہے کہ اس حکومت نے لڑکیوں کی تعلیم کے موجود نظام کو ختم کر کے ان کی تعلیم روک دی ہے۔ نیز خواتین کے سرکاری ملازمت کے حوالے سے بھی رکاوٹیں پیدا کر دی ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن نے ان ویزا اجرا میں میں پابندیوں کے بارے میں بتایا کہ یہ پابندیاں طالبان کے بعض سابق ارکان کے لیے ویزے میں رکاوٹ بنیں گی جو خواتین کے حقوق کے معاملے میں مزاحم رہے ہیں۔

دوسری جانب افغان وزارت خارجہ نے بدھ کے روز اس بارے میں کہا ہے ' امریکہ کی طرف سے ویزوں میں پیدا کردہ یہ رکاوٹیں دونوں ملکوں کے درمیان معاہدات کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں، اس طرح کے فیصلے دوطرفہ تعلقات پر بھی منفی اثرات مرتب کریں گے۔'
طالبان وزارت خارجہ نے دوحہ میں حالیہ مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ' اس دوران دونوں ملکوں کے نمائندوں تقریبا ہر موضوع پر تبادلہ خیال کیا تھا۔' تاہم طالبان کی وزارت خارجہ نے ان زیر بحث آنے والے موضوعات کی تفصیل نہیں بتائی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں