یمنی حکومت کا ایک بارپھرلبنان سے حوثیوں کےپروپیگنڈہ چینلز کی نشریات بندکرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمنی حکومت نے لبنانی حکومت سے ایک بار پھر مطالبہ کی تجدید کی ہے کہ وہ دہشت گرد تنظیم قرار دیے گئی حوثی ملیشیا کے المسیرہ اور الساحات پروپگینڈہ چینلز کی نشریات بند کرے۔ یمنی حکومت کا کہنا ہے کہ حوثی اپنی چینلز سے فرقہ وارانہ اور اشتعال انگیز بیانیے کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے جو یمن میں سلامتی اور استحکام کو غیر مستحکم کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔

یہ مطالبہ بدھ کو بیروت میں یمنی سفیر عبداللہ الدعیس نے لبنان کے وزیر اطلاعات زیاد المکاری کے ساتھ ملاقات کے دوران سامنے آیا۔

الدعیس نے نشاندہی کی کہ یمن نے پہلے بھی لبنانی حکام کو بیروت سے دو چینلز کی نشریات روکنے کے لیے ایک سے زیادہ مواقع پر کہا تھا لیکن وہ اب بھی فرقہ وارانہ اور اشتعال انگیز بیان بازی جاری رکھے ہوئے ہیں اور جنگ کو جاری رکھنے کے لیے محاذوں پر متحرک ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ا کے علاوہ یہ چینل گمراہ کن خبریں اور رپورٹیں نشر کررہے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ دونوں چینلز جو کچھ کر رہے ہیں وہ دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کی واضح غلط استعمال کی نمائندگی کرتا ہے اور ساتھ ہی عرب وزرائے اطلاعات کی کونسل کے فیصلے کی واضح خلاف ورزی ہے، جس میں رکن ممالک سے کسی بھی میڈیا چینلز کو روکنے یا میزبانی نہ کرنے کو کہا گیا تھا۔ ان سرگرمیوں کا مقصد کسی دوسرے عرب ملک میں سلامتی اور استحکام کو غیر مستحکم کرنا ہے۔

یمنی سفیر نے نشاندہی کی کہ حوثی ملیشیا کو نیشنل ڈیفنس کونسل نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، شہروں کا محاصرہ کرنے، سڑکیں بند کرنے، بارودی سرنگیں بچھانے اور حال ہی میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے حوالے سے ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر درجہ بندی کی ہے۔

دوسری طرف لبنانی وزیر نے وعدہ کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کے مفاد میں دونوں چینلز کی نشریات بند کرنے کے حوالے سے اقدامات کیے جائیں گے۔

قابل ذکر ہے کہ المسیرہ چینل حوثی ملیشیا کا ترجمان سمجھا جاتا ہے۔ یہ چینل مارچ 2012 میں نایل ست سیٹلائٹ تجرباتی نشریات کے ساتھ سامنے آیا تھا۔ تاہم سعودی عرب کی درخواست پر نائل سیٹ سے اس کی نشریات بند کردی گئی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں