یمن کی شبوا گورنری کے دار الحکومت عتق شہر میں ایک دیو ہیکل ٹیلی کام ٹاور کی چوری کی واردات پر سب لوگ حیران ہیں۔ یہ علاقہ آئینی حکومت کے زیرکنٹرول ہے۔ اس واقعے پر حکومت کی طرف سےسکیورٹی کے انتظامات پر عوام کی طرف سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
مقامی ذرائع نے عتق کے جنوب میں "ہائی ٹرانسمیشن ہل" سے 60 میٹر طویل کمیونیکیشن ٹاور کے اچانک غائب ہونے کی تصدیق کی ہے۔
شبوا کے گورنر عوض بن الوزیر کی طرف سے جاری کردہ ایک سرکاری دستاویز میں تصدیق کی گئی ہے کہ "عتق میں ایک مواصلاتی ٹاور پراسرار حالات میں گرا اور اسے فوجیوں نے لوٹ لیا" تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا چور پکڑے گئے یا نہیں۔
یہ واقعہ جسے یمنیوں کی طرف سے سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر پھیلایا گیا، ان میں سے کچھ نے گنیز بک آف ریکارڈز کی فہرست میں دنیا کی سب سے بڑی چوری کے طور پر شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ بعض لوگوں نے مقامی آبادی کے لیے ٹرانسمیشن سروس فراہم کرنے والے ٹاور کی چوری کو ستم ظریفی قرار دیا ہے۔