تونس میں نکاح میں خواتین کی گواہی کی کہانی کتنی ’پرانی‘ ہے اور اب اس پر اعتراض کیوں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

افریقی عرب ملک تونس کے متعدد خاندانوں نے اپنی ہاں شادی بیاہ کی گواہی کے لیے خواتین کا انتخاب کیا ہے۔ تونس کا قانون اس کی اجازت دیتا ہے۔ دوسرے عرب اور اسلامی ممالک کے برعکس تونس کی اپنی روایت ہے۔ دیگر مسلمان ملکوں میں مروجہ قانون کے مطابق عورت کی گواہی مرد کے مقابلے میں آدھی ہونی چاہیے۔ تونس کی ایک مصفہ الفہ یوسف کی بیٹی ایلاف کی حال ہی میں ہونے والی شادی میں صرف دو خواتین نے گواہی ثبت کی گئی۔ یہ گواہی دلہن اور دلہے کی ماؤں نے دی۔ اس پر سوشل میڈیا پر کئی عرب پیجز پر نکاح نامے پر ہنگامہ برپا ہوا۔ بہت سے لوگوں نے شادی کی گواہی کو اسلامی شریعت کے خلاف قرار دیا۔

قانون کے مقاصد

الفہ یوسف نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا کہ "میری بیٹی کے شوہر رامی نے شریعت کے مقاصد پورے کیے ہیں۔ اس کے نکاح نامے پر چار افراد نے دستخط کیے۔ میں یعنی لڑکی کی ماں، دلہے کی ماں، دلہے، دلہن ایلاف اور نکاح خواں نے اپنے اپنے اپنے دستخط کیے۔

ایک اور پوسٹ میں مصنفہ نے اپنے ناقدین کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ "مجھے لگتا ہے کہ میں کسی دوسرے سیارے سے تعلق رکھتی ہوں۔ خاندانی ذمہ داریاں بانٹنا، ذاتی زندگی کا احترام کرنا، جنسی رجحانات اور صنفی شناخت کو قبول کرنا، وراثت میں مساوات اور دیگر مسائل جو بہ ظاہر نظر آتے ہیں وہ سب ہمارے سامنے واضح ہیں۔ دوسرا اب بھی مجھے عقد نکاح میں عورتوں کی گواہی کے جائز ہونے کے بارے میں بتا رہا ہے اور فتویٰ دیتا ہے کہ یہ عقد باطل ہے یا ناجائز ہے۔

الفہ کی پوسٹ اور ان کےموقف کی تائید کرتے ہوئےاسلامی اسکالر سلویٰ الشریفی کہتی ہیں کہ"تونس میں خواتین کا شادی میں گواہ بننا بہت پرانا واقعہ نہیں۔ سنہ1974ء سے اس قسم کا نکاح نامہ موجود ہے جس میں گواہ خواتین ہیں"۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں اس طرح کے شادی کے معاہدوں میں شرکت کرچکی ہوں۔"

الشریفی نے اس شادی کو ممنوع قرار دینے والوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "مسلمانوں کی اکثریت قرآن نہیں پڑھتی اور اگر وہ اسے پڑھتی ہے تو سمجھ نہیں پاتی۔" انہوں نے وضاحت کی کہ "اسلام میں عورتوں کی نامکمل گواہی کا حکم صرف مالیاتی لین دین سے متعلق ہے کیونکہ خواتین اس طرح کے لین دین میں موجود نہیں تھیں۔شادی میں گواہی کے معاملے کا اس سےکوئی تعلق نہیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ صرف ابو حنیفہ ہی ہیں جو نکاح کو ایک مالیاتی معاہدہ سمجھتے ہیں جس کے ذریعے وہ عورتیں خریدتے ہیں۔ اب تونس میں یہ معاہدہ دینار میں مہرعائد کر سکتا ہے۔ یہ ایک علامتی رقم ہے جوہر ایک کو پیش کی جاتی ہے، لیکن اس سے زیادہ اس کے علاوہ، ایسی خواتین ہیں جو مالیاتی حسابات کی ماہر ہیں اب عدالتوں کے سامنے گواہی دے رہی ہیں اور تونس میں تمام خواتین ججوں کو گواہ سمجھا جاتا ہے۔

پرانی روایت

صحافیہ رشی التونسی کا کہنا ہے کہ "یہ معاملہ تونس میں کوئی نیا نہیں ہے۔ یہ اس وقت سے نافذ العمل ہے جب حبیب بورقیبہ نے پرسنل اسٹیٹس کوڈ جاری کیا ہے۔" انہوں کہا کہ ان کی بیٹی کی شادی کا معاہدہ برسوں پہلے دو خواتین کی گواہی کی صورت میں منعقد ہوا تب کوئی ہنگامہ نہیں ہوا۔

1956 کے تونس کے قانون کے باب 31 کے مطابق تیونس میں شادی کا معاہدہ دو نوٹریوں کے سامنے یا دو قابل اعتماد گواہوں کی موجودگی میں سول اسٹیٹس آفیسر کے سامنے کیا جاتا ہے اور ان کی جنس کی وضاحت نہیں کی گئی تھی۔

فقہ کے عالم حسام الدین خلیفہ نے لکھا کہ "میری والدہ الفہ یوسف جیسی مشہور مصنفہ نہیں ہیں بلکہ وہ میرے بچپن اور جوانی کی مصنفہ ہیں۔ مجھے ان پر فخر ہے۔ اس کا خوبصورت جواب یہ ہے کہ مردوں کے ساتھ خواتین کی برابری کا دفاع کیا جائے یہاں تک کہ شہادت میں بھی خواتین کو مرد کے برابر کا درجہ دیا جائے۔" انہوں نے مزید کہا کہ میرا نکاح دو عورتوں کی گواہی سے ہوا۔ میری ماں اور میری بیوی کی ماں بیوی کی طرف گواہی دی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں