نیپال میں مسافر طیارہ گر کر تباہ، 68 افراد ہلاک

مہلوکین میں پانچ ہندوستانی، چار روسی، دو جنوبی کوریائی اورآئرلینڈ، آسٹریلیا، ارجنٹائن اور فرانس کا ایک ایک شہری شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

نیپال میں علاقائی مسافر طیارہ پوکھرا کے نئے ہوائی اڈے پر لینڈنگ کے دوران میں کھائی میں گرکر تباہ ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں 68 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی ہے۔نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ طیارے میں 72 افرادسوار تھے۔گذشتہ تین دہائیوں میں ملک میں یہ سب سے مہلک فضائی حادثہ ہے۔

نیپال کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق مسافر طیارہ پوکھرا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے قریباً 1.6 کلومیٹر(قریباً ایک میل) دور دریائے سیتی کے قریب گرکرتباہ ہوا ہے۔حادثے کے مقام پر امدادی کارکنوں نے ملبے سے لاشوں کو نکالنے کے لیے رسیوں کا استعمال کیا ہے،جن کے کچھ حصے کھائی کے کنارے لٹکے ہوئے تھے۔بعض لاشیں ناقابل شناخت ہوچکی تھی،انھیں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے،جہاں غم زدہ رشتہ دار جمع تھے۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ طیارہ گرنے کی وجہ کیا تھی۔حادثے کے ایک عینی شاہد نے بتایا کہ انھوں نے اپنے گھر کی چھت سے لینڈنگ کی کوشش کے دوران میں طیارے کو ہوا میں زور دار گھومتے ہوئے دیکھا۔ گوروگرونگ نے بتایا کہ طیارہ پہلے بائیں جانب گرا اور پھر کھائی میں گرکر تباہ ہوگیا۔حادثے کے بعد طیارے میں آگ لگ گئی اور ہر طرف دھواں پھیل گیا۔

ایوی ایشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ طیارے نے آخری بار صبح 10 بج کر 50 منٹ پر سیتی گورج کے قریب سے ایئرپورٹ سے رابطہ کیا تھا۔نیپال کی یتی ایئرلائنز کا دو انجن والا اے ٹی آر 72 طیارہ دارالحکومت کھٹمنڈو سے پوکھرا کے لیے 27 منٹ کی پرواز کررہا تھا۔

اتھارٹی نے ایک بیان میں کہا کہ طیارے میں 68 مسافر سوار تھے۔ان میں 15 غیر ملکی شہری اور عملہ کے چار ارکان شامل تھے۔ غیر ملکیوں میں پانچ ہندوستانی، چار روسی، دو جنوبی کوریائی اور آئرلینڈ، آسٹریلیا، ارجنٹائن اور فرانس کا ایک ایک شہری شامل ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پرشیئر کی جانے والی تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حادثے کی جگہ سے دھواں اٹھ رہا ہے جبکہ امدادی کارکن، نیپالی فوجی اور لوگوں کا ہجوم زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کے لیے طیارے کے ملبے کے ارد گرد جمع ہے۔ طیارے کا فرش کئی حصوں میں ٹوٹ چکا تھا اور وہ کھائی میں بکھرے ہوئے تھے۔

نیپالی وزیراعظم پشپا کمل دہل نے حادثے کی تحقیقات کے لیے ایک پینل تشکیل دیا ہے۔انھوں نے جائے حادثہ پرپہنچنے کے بعدکہا کہ یہ واقعہ افسوسناک تھا۔ نیپالی فوج اور پولیس کی پوری فورس کو ریسکیو کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔

حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کی قسم اے ٹی آر 72 کو دنیا بھرکی متعدد ایئرلائنز مختصر علاقائی پروازوں کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ 1980 کی دہائی کے اواخر میں فرانسیسی اور اطالوی شراکت داری کے ذریعے متعارف کرایا گیا طیارے کا یہ ماڈل برسوں سے متعدد مہلک حادثات میں کاشکار ہوتا رہا ہے۔

واضح رہے کہ 2018 میں ایران کی آسمان ایئرلائنز کا اے ٹی آر 72 طیارہ دھند کے باعث پہاڑی علاقے میں گر کر تباہ ہوگیا تھا جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام 65 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اے ٹی آر نے ایک ٹویٹ میں حادثے کا شکارطیارے کی شناخت اے ٹی آر 72-500 کے طور پر کی ہے۔ flightradar24.com کے طیارے کی ٹریکنگ کے اعداد و شمار کے مطابق ، طیارہ 15 سال پرانا تھا اور "ناقابل اعتماد ڈیٹا کے ساتھ ایک پرانے ٹرانسپونڈر سے لیس تھا۔ Airfleets.net کے ریکارڈ کے مطابق یتی نے 2019 میں اس کو حاصل کیا تھا۔ اس سے پہلے اسے ہندوستان کی کنگ فشر ایئرلائنز اور تھائی لینڈ کی نوک ایئر نے اڑایا تھا۔ کمپنی کے ترجمان سدرشن بارتولا نے کہا کہ یتی ایئرلائنز کے بیڑے میں چھ اے ٹی آر 72-500 طیارے شامل ہیں۔

کٹھمنڈو کے مغرب میں 200 کلومیٹر (125 میل) کے فاصلے پر واقع پوکھرا، اناپورنا سرکٹ کا گیٹ وے ہے، جو ہمالیہ میں پیدل چلنے کا ایک مشہور راستہ ہے۔پوکھرا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے نے صرف دو ہفتے پہلے آپریشن شروع کیا تھا۔ یہ چین کی فنی اور مالی مدد سےتعمیر کیا گیا تھا۔

نیپال میں چین کے سفیر چن سونگ نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ وہ اس حادثے کے بارے میں جان کر بہت صدمے میں ہیں۔اس مشکل وقت میں ہماری سوچ نیپالی عوام کے ساتھ ہے۔ میں متاثرین کے ساتھ گہری تعزیت اور سوگوار خاندانوں کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔

اتوار کو پیش آنے والا یہ حادثہ 1992 کے بعد نیپال کا سب سے مہلک حادثہ ہے، جب پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کا ایک طیارہ کھٹمنڈو میں لینڈنگ کے دوران میں پہاڑی سے ٹکرا گیا تھا جس کے نتیجے میں اس میں سوار تمام 167 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ماؤنٹ ایورسٹ سمیت دنیا کے 14 بلند ترین پہاڑوں میں سے آٹھ نیپال میں واقع ہے۔پہاڑوں پرمشتمل یہ ملک فضائی حادثات کی تاریخ رکھتا ہے۔ فلائٹ سیفٹی فاؤنڈیشن کے ایوی ایشن سیفٹی ڈیٹا بیس کے مطابق 1946 سے اب تک نیپال میں 42 مہلک طیارے حادثے ہو چکے ہیں۔

گذشتہ سال نیپال میں ایک پہاڑی علاقے میں ایک طیارہ گرکر تباہ ہو گیا تھا جس کے نتیجے میں 22 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ سنہ 2016ء میں پوکھرا سے کھٹمنڈو جانے والا تارا ایئرٹوئن اوٹر ٹیک آف کے بعد گر کر تباہ ہو گیا تھا جس کے نتیجے میں طیارے میں سوارتمام 23 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

سنہ 2012ء میں اگنی ایئر کا پوکھرا سے جومسوم جانے والا طیارہ گر کر تباہ ہوا تھا۔اس میں سوار 15 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور چھے افراد زندہ بچ گئے تھے۔ سنہ 2014 میں نیپال ایئر لائنز کا پوکھرا سے جملا جانے والا طیارہ گر کر تباہ ہو گیا تھا۔اس کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام 18 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

پاکستانی قیادت کااظہارِافسوس

پاکستان کے صدر مملکت عارف علوی اور وزیراعظم شہباز شریف نے نیپال کے شہر پوکھرا میں فضائی حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اورافسوس کا اظہارکیا ہے۔

ایوان صدر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی نے انسانی جانوں کے ضیاع پرگہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے الم ناک واقعے کےمہلوکین کے لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔

صدرعارف علوی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ لواحقین کو صبر اور استقامت کے ساتھ یہ صدمہ برداشت کرنے کی ہمت عطا فرمائے۔رنج والم کے اس لمحے میں، ہمارے خیالات اور دعائیں متاثرہ خاندانوں اور نیپال کے غمزدہ لوگوں کے ساتھ ہیں۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بھی نیپال کے شہر پوکھرا میں فضائی حادثے میں جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہارکیا ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مشکل اور غم کے اس وقت میں، ہماری ہمدردی اور دعائیں نیپال کی حکومت،متاثرہ خاندانوں اورعوام کے ساتھ ہیں، اللہ تعالیٰ لواحقین کوصبرکے ساتھ صدمہ برداشت کرنے کی ہمت عطا فرمائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں