روس اور یوکرین

یوکرینی حکام کاامریکی کانگریس کے ارکان پرایف 16 لڑاکاطیارے دینے کے لیےدباؤ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

یوکرین کے حکام نے امریکی کانگریس کے ارکان پر زور دیا ہے کہ وہ صدرجو بائیڈن کی انتظامیہ پرکیف کو ایف-16 لڑاکا طیارے دینے کے لیے دباؤ ڈالیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ لڑاکا طیارہ امریکی ساختہ راکٹوں سے روس کے میزائل یونٹوں کو نشانہ بنانے کی یوکرین کی صلاحیت کو بڑھادے گا۔

یہ لابنگ میونخ سیکیورٹی کانفرنس کے موقع پرسامنے آئی ہے جہاں یوکرین کے حکام بشمول وزیر خارجہ دمترو کلیبا اورامریکی سینیٹ اور ایوان نمائندگان کے ڈیموکریٹس اور ری پبلکنز کے درمیان اس موضوع پربات چیت ہوئی ہے۔

ماضی میں امریکی بحریہ کے لڑاکا طیاروں کو اڑانے والے سابق خلاباز سینیٹرمارک کیلی نے رائٹرز کو بتایا کہ’’یوکرینی حکام چاہتے ہیں کہ ’’ایف 16 لڑاکا طیارے دشمن کے فضائی دفاع کو دبا دیں اوران کے ڈرونز روسی فرنٹ لائنز سے آگے تک مارکرسکیں‘‘۔

امریکی صدربائیڈن سے جب گذشتہ ماہ یہ پوچھا گیا تھا کہ کیا وہ لاک ہیڈ مارٹن کے تیارکردہ ایف 16 طیاروں کے لیے یوکرین کی درخواست منظور کریں گے توانھوں نے اس کا نفی میں جواب دیا تھا۔

امریکی سینیٹ اور ایوان نمائندگان کے چاروفود نے مشترکہ طورپر1963 میں شروع ہونے والے یورپ کے اہم سکیورٹی اجتماع میں اختتام ہفتہ پرشرکت کی ہے اور یہ امریکی قانون سازوں کی سب سے بڑی تعداد ہےجس سے یوکرین کے لیے واضح دو طرفہ حمایت کا اظہار ہوتا ہے۔

یہ کانفرنس بنیادی طور پر یوکرین جنگ پرمرکوز تھی اور 24 فروری کو روس کے حملے کی برسی سے چند دن قبل منعقد ہوئی تھی۔روس کی حالیہ مہینوں میں مختلف محاذوں پر پے درپے شکستوں کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان سخت لڑائی جاری ہے،یوکرین کا مشرقی علاقہ ڈونباس اس وقت ایک بڑا محاذ جنگ بنا ہوا ہے۔

کیلی اور تین دیگر قانون سازوں نے یوکرین کے حکام کے ساتھ اپنی بات چیت کے بارے میں رائٹرز کو بتایا کہ ان کا ماننا ہے کہ کانگریس میں یوکرین کو ایف 16 مہیّاکرنے کے لیے حمایت بڑھ رہی ہے۔واضح رہے کہ یہ دنیا کے سب سے زیادہ کثیرالجہت اور کثیرالمقاصد جیٹ لڑاکا طیاروں میں سے ایک ہے۔

یوکرین کی فضائیہ نے فضا سے زمین پرمارکرنے والے امریکی ساختہ اے جی ایم-88 ہارم راکٹوں کو اپنے سوویت ساختہ مِگ 29 لڑاکا طیاروں سے فائر کرنے کے لیے تیارکیا ہے۔ یہ راکٹ زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل یونٹوں کے ریڈار سے الیکٹرانک ٹرانسمیشن پراثرانداز ہوتے ہیں۔

یوکرین کے حکام کا کہنا ہے کہ اگریہ راکٹ ایف-16 کے جدید نظام کا استعمال کرتے ہوئے داغے جاتے ہیں توان کے پائلٹ روسی ایس-300 اور ایس-400 میزائل فضائی دفاعی یونٹوں کو اے جی ایم-88 سے زیادہ مؤثرطریقے سے نشانہ بنا سکتے ہیں۔

سینیٹرکیلی کا کہنا تھا کہ ’’یوکرینی حکام ایس ای اے ڈی مشن کے لیے اس طیارے کی مانگ کررہے ہیں۔وہ شاید سوچتے ہیں کہ وہ ایس -400 نظام کا توڑ کرنے میں بہترکام کرسکتے ہیں‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’اگرچہ ایف 16 کی تمام صلاحیتوں پر عبور حاصل کرنے کے لیے کم سے کم ایک سال کی تربیت کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن یوکرین کے پائلٹوں کو چند مہینوں میں محدود پیمانے پرکام کرنا سکھایا جاسکتا ہے‘‘۔

دریں اثناء یوکرین کونیٹو کے جدیدمعیار کے لڑاکا طیارے مہیا کرنے کے لیے بحراوقیانوس کے دونوں اطراف حمایت بڑھ رہی ہے اور برطانیہ کا کہنا ہے کہ وہ یوکرینی پائلٹوں کوتربیت دے گا۔تاہم، جنگ شروع ہونے کے بعد سے دونوں فریق اپنی فضائی طاقت کو اہم طریقے سے استعمال کرنے سے ہچکچاتے رہے ہیں۔

یوکرین کو جدید لڑاکا طیارے مہیّا کرنے کا مطالبہ گذشتہ ماہ فرانس، برطانیہ، امریکااور جرمنی کی جانب سے کیف کو جدید جنگی ٹینک دینے کے معاہدے کے بعد کیا گیا تھا۔امریکا نے اب تک یوکرین کو روس کے خلاف جنگ میں 30 ارب ڈالر کی فوجی امداد مہیّا کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں