"نیتن یاہو کے ماتحت کام نہیں کر سکتا" نیویارک میں اسرائیلی قونصل جنرل مستعفی
نیو یارک میں اسرائیل کے قونصل جنرل عساف زمیر نے اتوار کو وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی طرف سے وزیر دفاع یواف گیلنٹ کو برطرف کرنے کے اقدام پر احتجاجاً استعفیٰ دے دیا۔
عساف زمیر نے اپنے بیان میں اسرائیل کی موجودہ سیاسی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ''ایک "نازک موڑ" پر پہنچ چکی ہے''۔
انہوں نے وزیر دفاع گیلنٹ کی برطرفی کے فیصلے کو "خطرناک" قرار دیتے ہوئے اسے اسرائیلی سیاست کے لیے تباہ کن قرار دیا۔
اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ "وزیر دفاع کو برطرف کرنے کے آج کے خطرناک فیصلے نے مجھے یقین دلایا کہ میں مزید اس حکومت کی نمائندگی جاری نہیں رکھ سکتا۔ میں نئی حکومت کی پالیسیوں ، خاص طور پر مجوزہ عدالتی اصلاحات کے بارے میں انتہائی تشویش میں مبتلا ہوں"
انہوں نے کہا کہ یہ عدالتی اصلاحات اسرائیل میں "جمہوری نظام کی بنیاد کو مجروح کرتی ہیں اور قانون کی حکمرانی کے لیے خطرہ ہیں"۔
واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کل اتوار کو وزیر دفاع یواف گیلنٹ کو عدالتی ترامیم کو مسترد کرنے کی وجہ سے عہدے سے برطرف کر دیا تھا۔ گیلنٹ نے ہفتے کے روز حکومت کی جانب سے عدالتی نظام میں متنازعہ اصلاحات پر تنقید کی تھی کہ یہ ریاستی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
اس فیصلے کے بعد تل ابیب اور یروشلم میں ہزاروں اسرائیلی شہری سڑکوں پر نکل آئے۔
کئی اہم سیاسی شخصیات اور سماجی رہنماؤں نے گیلنٹ کی برطرفی کی مذمت کرتے ہوئے اسے اسرائیل کے لیے ''خطرناک'' اور نیتن یاہو کو "آمر" قرار دیا۔