عراق میں ایک ہی وقت میں دن اور رات اکٹھے نظر آنے لگے۔ بغداد میں ریت کا ایک بڑا طوفان آگیا۔ یہ اس سال کا پہلا طوفان تھا جس نے دن کو رات میں بدل کر رکھ دیا۔ بغداد کو نارنجی رنگ کے ایک بڑے بادل میں ڈھانپ لیا۔ دھوک گورنری کو
برف نے ڈھانپ لیا اور اس کا درجہ حرارت صفر تک پہنچ گیا۔
یہ ایک نیم صحرائی علاقہ ہے اور یہاں ایسا موسمی رجحان متعدد مرتبہ دیکھنے میں آجاتا ہے۔ خاص طور پر بہار کے موسم میں کچھ عراقی علاقوں میں طوفان آجاتا ہے۔ اس مرتبہ اس طوفان نے خاص طور پر بغداد کی فضائی حدود کو دھول اور ریت کے گھنے نارنجی رنگ نے ڈھانپ لیا۔
العاصفة الترابية تغطي أجواء مدينة #بغداد وضواحيها مع دخول المنخفض الجوي..
— العربية العراق (@AlArabiya_Iraq) March 31, 2023
شاهد #العربية_العراق pic.twitter.com/YYNHAzL0Tz
اے ایف پی کے مطابق طوفان کی وجہ سے حد نگاہ ڈرامائی طور پر کم ہوگئی۔ دھول کی تہوں نے کاروں اور گھروں کو ڈھانپ لیا۔ ہواؤں کی وجہ سے یہ طوفان جمعہ کی سہ پہر ملک کے مغرب میں انبار گورنری سے بغداد اور صلاح الدین گورنری تک پہنچ گیا۔ گردوغبار کے باعث سانس لینے میں تکلیف کے باعث متعدد افراد کو ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا۔
واضح رہے کہ 2022 کے موسم بہار کے دوران دھول کے متواتر طوفانوں نے فضائی ٹریفک کو بھی مفلوج کرکے رکھ دیا ہے۔ سکولوں اور اداروں کے نظام تلپٹ ہوگئے ہیں۔ ہزاروں افراد کو دم گھٹنے کے واقعات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بڑی تعداد کو لوگوں کو ہسپتالوں میں داخل کرانا پڑا ہے۔
سال میں گردو غبار والے 300 دن
ماہرین کے مطابق عراق میں خطرناک موسم کا یہ رجحان آنے والے دنوں میں مزید خراب ہوسکتا ہے۔ عراق دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کا سب سے زیادہ شکار ہونے والے پانچ ممالک میں سے ایک بن گیا ہے ۔ اقوام متحدہ کے مطابق یہ ماحول کم بارشوں، زیادہ درجہ حرارت اور بڑھتی ہوئی صحرائی صورت حال کے باعث پیدا ہوا ہے۔
الثلوج تغطي #أربيل وضواحيها مصحوبة بضباب كثيف وانخفاض واضح في درجات الحرارة..
— العربية العراق (@AlArabiya_Iraq) March 31, 2023
شاهد #العربية_العراق pic.twitter.com/rDCuJmL4ze
وزارت ماحولیات کے ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ آئندہ دو دہائیوں کے دوران ملک میں سالانہ 272 ڈسٹ ڈے سامنے آنے کی توقع ہے اور 2050 میں دھول والے دن 300 کی حد تک پہنچ جائیں گے۔
عراقی محکمہ موسمیات کے ترجمان عامر الجابری کے مطابق گردو غبار کے طوفان کے رجحان میں اضافے کی وجہ خشک سالی، بارشوں کی کمی، دریاؤں کی خشکی اوردیگر عوامل ہیں۔ ملک میں درختوں اور پودوں والا علاقہ کم ہورہا ہے زور زرعی زمینوں میں کھدائی کی گئی ہے حکام دھول کے ان طوفانوں کو روکنے کے لیے شہروں کے گرد گرین بیلٹس بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔