ایران میں تین ہفتوں کی "نوروز" کی تعطیلات کے اختتام کے بعد، طالبات کے اسکولوں پر جاری حالیہ زہریلی گیس حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا۔
سرکاری اسنا نیوز ایجنسی کے مطابق، زیر دینے کے ایک نئے واقعے میں مزید 20 طالبات کو کمزوری اور سانس لینے میں تکلیف کے بعد ہسپتال لے جایا گیا۔
ایمرجنسی آرگنائزیشن نے بتایا کہ واقعہ شمال مغربی شہر تبریز کے قصبے باغمیشہ کے ایک اسکول میں پیش آیا جہاں 20 طالبات کو سانس لینے میں دشواری کی اطلاع ملی تھی۔
تبریز میں ایمرجنسی کے سربراہ اصغر جعفری نے تصدیق کی کہ یہ واقعہ زہر سے حملے کا ہے۔
1,000 سے زیادہ
بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق گزشتہ نومبر سے اب تک ایک ہزار سے زائد اسکول کی لڑکیاں زہر خورانی کے بعد بیمار ہو چکی ہیں۔
زہر کی یہ لہر گذشتہ نومبر میں قم شہر سے شروع ہوئی تھی جہاں تقریباً 800 طالبات زہریلی گیس میں سانس لینے کے نتیجے میں کمزوری، آنتوں میں درد اور بے ہوش ہونے کا انکشاف ہوا۔
بعد میں ملک بھر کے کئی اسکولوں کے ساتھ مختلف علاقوں میں اسی طرح کے کیسز سامنے آئے۔
-
ایران میں طالبات پر پھر زہریلی گیس سے حملے
ایران میں طالبہ کو زہر دیے جانے کے واقعہ کی گونج میں آج پیر کو ایک احتجاجی مظاہرہ ...
بين الاقوامى -
سکول طالبات کو زہر دینے کا معاملہ، ایران میں 100 افراد گرفتار
ہو سکتا ہے ملزموں نے بدبودار اور بے ضرر مادے کا استعمال کیا ہو: ایرانی وزارت ...
بين الاقوامى -
ایرانی طالبات کی زہرخورانی کا معاملہ وزراء تعلیم اور صحت کی برطرفی کا مطالبہ
ایران میں گذشتہ مہینوں کے دوران اسکول کی طالبات کو زہر دینے کے واقعات میں مسلسل ...
مشرق وسطی -
طالبات کو زہردینے کے واقعے کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبا پر ایرانی فورس کا تشدد
ایران میں گذشتہ نومبر سے ملک میں اسکول کی طالبات کو متاثر کرنے والی زہر کی لہر کے ...
مشرق وسطی