شام سے اسرائیل پر راکٹوں سے حملہ، ایک راکٹ گولان کی پہاڑیوں میں گر کر تباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوج نے اطلاع دی ہے کہ شام سے اسرائیل کی طرف 3 راکٹ فائر کیے گئے جب کہ ایک راکٹ گولان کی پہاڑیوں کے جنوب میں ایک کھلے علاقے میں گرا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان اویچائی ادرعی نے کہا کہ راکٹ حملوں کے بعد جنوبی گولان کی پہاڑیوں میں میتسار قصبے کے قریب کھلے علاقوں میں الرٹ جاری کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان حملوں کی مزید تحقیقات کر رہےہیں جس کی تفصیلات جلد جاری کی جائے گی۔

درایں اثنا العربیہ کے نامہ نگار کے مراسلے کے مطابق ابھی تک کسی فریق نے راکٹ حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی لیکن اسرائیلی فوج نے اشارہ دیا کہ یہ کارروائی جنوبی لبنان پر اسرائیلی چھاپوں کا جواب ہو سکتی ہے۔

وادی عقربہ میں ایک راکٹ دھماکے کا واقعہ

اردن کی ’بترا‘ نیوز ایجنسی کے مطابق اردن کی مسلح افواج نےکہا ہےکہ شام کی سرحد سے متصل وادی عقربہ میں ایک راکٹ فضا میں پھٹا ہے۔ اردن کی مسلح افواج کی جنرل کمان کے ایک سرکاری عسکری ذریعے نے بتایا کہ ہفتے کو رات 10:25 بجے شام کی سرحد سے متصل وادی عقربہ میں ایک راکٹ ہوا میں پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں اس کے ٹکڑے اسی جگہ پر گرے۔

ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی کہ راکٹ کے پھٹنے سے گرنےوالے ٹکڑوں سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ رائل انجینئرنگ کور کی خصوصی ٹیمیں جائے حادثہ کا جائزہ لے رہی ہیں جس کی تفصیلات جلد سامنے آئیں گی۔

ذریعہ نے اشارہ کیا کہ مسلح افواج خطے کی صورتحال میں کسی بھی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اردن کی مسلح افواج نے شہریوں سے مطالبہ کیا کہ وہ معلومات کے درست ذرائع کا حوالہ دیئے بغیر ایسی افواہیں پھیلانے سے گریز کریں جس سے معاشرے میں بے چینی پیدا ہو۔

راکٹ فائر 2006 کے بعد سے اسرائیل- لبنانی محاذ پر غیر معمولی واقعہ قرار دیا جاتا ہے۔ جمعرات کو لبنان سے اسرائیل کی طرف تقریباً تیس راکٹ داغے گئے، جس سے ایک شخص زخمی اور مادی نقصان ہوا۔ اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ یہ راکٹ فلسطینی گروپوں اور حماس کے زیرکنٹرول پناہ گزین کیمپوں سے داغے گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں