میانمار میں فوجی حکومت نے مارشل لا کے خلاف جدوجہد کرنے والے سیاسی رہنماؤں اور مزاحمت کاروں کے گڑھ پر فضائی حملے کیے جس کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق میانمار کی فوج کے لڑاکا طیاروں اور ہیلی کاپٹرز نے ینگون کے مضافاتی علاقے پر بمباری کی، یہ قصبہ ملک میں دو سال قبل کی گئی فوجی بغاوت کیخلاف مزاحمت کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ملک میں فوجی بغاوت کے نتیجے میں قائم ہونے والی فوجی حکومت کے خیال میں یہ اجتماع حکومت مخالف عسکری تنظیم کا تھا جسے کچلنے کے لیے فضائی کارروائی کی گئی۔
فوجی حکومت کی جانب سے اجتماع پر فضائی حملے اور اس میں ہونے والی ہلاکتوں سے متعلق کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا، مارشل لا حکومت میں ذرائع ابلاغ پر پابندی اور سینسر شپ کے باعث مستند معلومات کا حصول مشکل ہوگیا ہے۔
تاہم زخمیوں میں سے ایک نے بین الااقوامی میڈیا کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ فوج کے فضائی حملوں میں100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
یاد رہے کہ میانمار کی فوج نے یکم فروری 2021 کو جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کرکے ملک کی حکمراں آنگ سان سوچی سمیت وزرا اور کئی سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔
-
میانمار کی ممتاز سیاسی رہنما آنگ سان سوچی کو مزید سات سال سزائے قید
میانمار کی ممتاز سیاسی رہنما آنگ سان سوچی کو ہیلی کاپٹر کے غلط استعمال اور لیز کے ...
بين الاقوامى -
میانمار بھی ایران اور شمالی کوریا تینوں بین الاقوامی مالیاتی نظام سے الگ ہو گئے
روس کو یوکرین پر حملے کی وجہ سے ایف اے ٹی ایف میں سائیڈ لائن کر دیا گیا
بين الاقوامى -
میانمار میں سکول پر ہیلی کاپٹروں کی فائرنگ سے 6 افراد ہلاک
فوج کا عمارت میں باغی موجود ہونے کا دعویٰ، حملے میں 17 افراد زخمی بھی ہوئے
بين الاقوامى -
میانمار میں چار جمہوریت نواز کارکن فنا کے گھاٹ اتار دیے گئے
میانمار میں سن اسی کی دہائی کے بعد موت کی سزا پر پہلی بار عمل درآمد ہوا ہے۔ سزائے ...
بين الاقوامى -
بدعنوانی کی پاداش میں میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی کو پانچ برس قید کی سزا
فوجی جنتا کی حکمرانی والے میانمار میں ایک عدالت نے جمہوریت نواز اور اقتدار سے ...
بين الاقوامى