رمضان کی 27 ویں شب: مسجد حرام میں زائرین کی بڑی تعداد کو سنبھالنے کا بہترین انتظام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امور حرمین شریفین کا انتظام کرنے والے ادارے نے بتایا ہے کہ رمضان المبارک 1444 ہجری میں 27 ویں شب کو مسجد حرام میں نمازیوں اور زائرین کی بڑی تعداد کی آمد کی حوصلہ افزائی کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ یہ منصوبہ کامیابی سے ہمکنار ہوا ہے۔

ادارہ "صدارت عامہ برائے امور مسجد حرام و مسجد نبوی" نے اتنی بڑی تعداد میں زائرین اور نمازیوں کو منظم کرنے کے مقصد سے فیلڈ ٹیموں کو تیز کر دیا تھا۔ نظام کو مربوط کرنے کے لیے تمام شریک اداروں اور فریقوں کا رابطہ بہتر بنایا گیا تھا۔ نمازیوں کو بالائی منزلوں اور عازمین عمرہ کو مطاف میں رکھنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ طواف کے مقام کی طرف جانے والی گزرگاہوں کو خالی کر لیا گیا تھا۔ طواف کے بعد لوگوں کو مختص ہالز میں بھیجنے کا انتظام تھا۔

انتظامیہ نے بتایا کہ نمازیوں اور زائرین کی آسانی کے لیے مسجد حرام کے 118 دروازے کھولے گئے تھے۔ 3 دروازے معتمرین کے لیے، 68 عبادت گزاروں کے لیے، 50 دروازے ہنگامی حالات کے لیے مختص کیے گئے تھے۔ 40 دروازے اندرونی آمد ورفت کا کام دے رہے تھے۔ اللہ کے فضل سے ریکارڈ تعداد میں آئے افراد کو اس بابرکت رات میں سہولت اور آسانی سے امور انجام دینے کا موقع فراہم کیا گیا ۔

انتظامی ادارے نے مزید بتایا کہ ماہ صیام کی 27 ویں شب مسجد حرام میں آب زمزم کے 30 ہزار کولر فراہم کیے گئے تھے۔ پانی کے یہ کولر مسجد کے تمام حصوں، صحنوں اور بیرونی سہولیات کے مقامات پر رکھے گئے تھے۔ 1300 سے زیادہ کارکنوں نے مسجد کے تمام ہالز اور بیرون مسجد چوراہوں میں بھی ماء زم زم کی بوتلیں تقسیم کیں۔ مسجد حرام میں آنے والے ضیوف الرحمن کے لیے 35 ہزار قالین بچھائے گئے تھے۔

خواتین کے امور کو بھی بہترین طریقے سے سنبھالا گیا۔ خواتین کی ایجنسیوں نے پیشہ ورانہ انداز میں خواتین میں مذہبی رہنمائی کے متعلق شعور بیدار کیا۔ معذور اور بزرگ خواتین پر خصوصی توجہ دی گئی۔ مسجد حرام کے تمام ہالز اور دیگر مقامات پر عبادت گزاروں کے لیے مختلف سائز کے قرآن کریم کے نسخے مہیا کیے گئے تھے۔ متعدد زبانوں میں قرآن مجید کے ترجمہ والے نسخے بھی رکھے گئے تھے۔ معذور افراد نے لیے بریل نسخے موجود تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں