دال میں کچھ کالا: بھارتی کشمیر میں پانچ فوجیوں کی ہلاکت سے متعلق متضاد بیانات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں عسکریت پسندوں کے ایک حملے میں پانچ انڈین فوجی ہلاک اور ایک فوجی زخمی ہو گیا ہے۔

’ہندوستان ٹائمز‘ کے مطابق انڈین فوج کے مرکز سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈین فوج کی گاڑی پر کشمیر کے ضلع پونچھ میں حریت پسندوں نے دوپہر تین بجے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں پانچ فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر اور ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فائرنگ کے بعد انڈین فوج کی گاڑی میں آگ لگ جاتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے فوجیوں کا تعلق راشٹریا رائفلز یونٹ سے تھا اور انہیں علاقے میں عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کرنے کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔

ادھر دوسری جانب ضلع راجوڑی میں فوجی ٹرک میں تین بجے کے قریب لگنے والی آگ اور نتیجتاً 4 فوجیوں کی ہلاکت کی وجہ آسمانی بجلی کو قرار دیا لیکن شام چھ بجے بھارتی فوج نے حادثے کو نامعلوم دہشت گردوں کی طرف سے گرینیڈ حملہ قرار دے دیا۔

سات بجے کے بعد بھارتی میڈیا، سابق سرکاری اہلکاروں اور مودی نواز صحافیوں نے حملے کے پیچھے لشکر طیبہ اور دیگر کالعدم تنظیموں کا ہاتھ قرار دے ڈالا، بعض ریٹائرڈ افسران اور تجزیہ نگاروں نے تو علانیہ پاکستان پر الزام لگانا شروع کر دیا۔

بھارت نے جی 20 ممالک کا اجلاس 21 سے 23 مئی کے دوران سرینگر میں منعقد کروانے کا اعلان کر رکھا ہے۔ اجلاس کا مقصد عالمی دنیا کو یہ باور کروانا تھا کہ کشمیر میں امن و امان کی صورتحال بالکل نارمل ہے، امن و امان کی بگڑتی صورتحال اور کشمیر کی متنازعہ حیثیت کے پیش نظر بیشتر جی 20ممالک کی شرکت سے معذرت کی وجہ سے مودی سرکار شدید دباؤ کا شکار تھی۔

اجلاس کے دوران کشمیریوں کی طرف سے شدید احتجاج اور ہڑتالوں کے خدشات بھی مودی سرکار کے لیے درد سر بنے ہوئے تھے، جنگی جنون میں مبتلا بھارت کو پاکستان کی طرف سے امن کی پیشکش بھی ایک آنکھ نہ بھائی۔

وزیرخارجہ بلاول بھٹو کی گووا میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں ممکنہ شرکت نے بھی بھارت کے پاکستان کو خارجی محاذ پر تنہا کرنے کی کوششوں پر پانی پھیر دیا تھا، ماہرین کے مطابق بادی النظر میں راجوڑی واقعہ بھی پلوامہ طرز کا خود ساختہ حملہ لگتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خودساختہ راجوڑی واقعے کا مقصد جی 20 اجلاس کو سرینگر سے کہیں اور منتقل کرنا ہے، تجزیہ کاروں کے مطابق واقعے کو جواز بنا کر بھارت پاکستانی وزیر خارجہ کی شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں شرکت سے بھی معذرت کر سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں