اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہوپربدعنوانیوں کے مقدمے کی سماعت؛تازہ صورت حال کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف بدعنوانی کے مقدمے کی سماعت ایک ماہ کے طویل وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوئی ہے۔ان پراس مقدمے کی سماعت صہیونی ریاست کی عدلیہ میں اصلاحات کے حکومتی منصوبے کے خلاف حالیہ مظاہروں کے بعد ہورہی ہے۔

نیتن یاہو پردھوکا دہی،اعتماد کی خلاف ورزی اور رشوت لینے کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔ان میں طاقتور میڈیا شخصیات اور امیر ساتھی شامل ہیں جبکہ وہ کسی غلط کام کی تردید کرتے ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ نیتن یاہوعدالتوں کو کمزور کرنے اور عدالتی نظام کو تبدیل کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ ان کے مقدمے سے بچنے کا راستہ کھولا جا سکے۔

ان کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کواسرائیل میں ایک طویل سیاسی بحران میں مرکزی حیثیت حاصل رہی ہےجس نےاسرائیلیوں کو چارسال سے بھی کم عرصے میں پانچ بار انتخابات میں حصہ لینے پر مجبور کیا۔ان میں ہرانتخاب بنیادی طور پر نیتن یاہو کی حکمرانی کی اہلیت کے بارے میں ریفرنڈم تھا۔

2021 میں مخالفین کے اتحاد کے ہاتھوں اقتدار سے محروم ہونے کے بعد نیتن یاہو قانونی مسائل کے باوجود گذشتہ سال کے آخرمیں وزیر اعظم کے طور پر واپس آئے تھے۔ اسرائیلی قانون کے مطابق وزیر اعظم کو مقدمے کی سماعت کے دوران میں مستعفی ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ان کے خلاف مقدمے پر ایک نظر:

چیزیں کہاں ہیں؟

مئی 2020 میں شروع ہونے والے مقدمے میں استغاثہ کے 40 سے زیادہ گواہوں کو پیش کیا گیا ہے۔ان میں نیتن یاہو کے کچھ قریبی سابق ساتھی بھی شامل ہیں جو وزیر اعظم کے خلاف ہو گئے تھے۔عینی شاہدین کے بیانات نے نہ صرف ان تینوں مقدمات پر روشنی ڈالی ہے بلکہ نیتن یاہو کے کردار اور ان کے خاندان کی ساکھ کے بارے میں سنسنی خیز تفصیل بھی سامنے آئی ہے۔

ایک عینی شاہد نے نیتن یاہو اور ان کی اہلیہ کو دیے گئے مہنگے تحائف کے بارے میں بتایا جن میں گلابی شیمپین اور سگار بھی شامل ہیں۔مقدمے کی سماعت کو اسرائیلی میڈیا کی ان رپورٹس سے دھچکا لگا کہ پولیس نے ایک اہم سرکاری گواہ پر جدید فون ہیکنگ اسپائی ویئر کا استعمال کیا۔

یہودی تیوہار فسح کی تعطیلات کے بعد مقدمے کی سماعت دوبارہ شروع ہونے پر پولیس کے ایک اعلیٰ تفتیش کار گواہی دے رہے ہیں۔دفاع اپنی جرح میں ممکنہ طور پر پولیس کی تحقیقات کے طریق کار کے بارے میں دریافت کرنے کی کوشش کرے گا۔

مقدمے کی طویل سماعت کیوں؟

نیتن یاہو کے خلاف تین پیچیدہ مقدمات کی سماعت کی کی جارہی ہے۔ان میں کیس 1000، کیس 2000 اور کیس 4000 شامل ہیں۔استغاثہ کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے میڈیاشخصیات کے ساتھ موافق پریس کوریج کے لیے ریگولیٹری مراعات کا تبادلہ کیا اور شاندار تحائف کے بدلے ہالی ووڈ کے ایک ارب پتی پروڈیوسر کے ذاتی مفادات کو آگے بڑھایا۔

پراسیکیوٹرز 300 سے زیادہ گواہوں کی فہرست تیار کررہے ہیں۔ انھیں مقدمے کی سماعت کے دوران میں عدالت میں پیش کیا جائے گا۔تاہم اس فہرست میں شامل کم سے کم تین گواہوں کی موت ہوچکی ہے اور توقع ہے کہ گواہوں کی فہرست میں کسی حد تک کمی کی جائے گی۔

کچھ قانونی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی عدالتوں کے نظام کی ساکھ یہ ہے کہ ان میں سست روی سے مقدمہ چلایا جاتا ہے۔نیتن یاہو کے خلاف مقدمے میں بھی دفاع نے جان بوجھ کرباربارتاخیر کا مطالبہ کیا ہے،جرح کو طول دیا ہے اور دیگر ہتھکنڈے استعمال کیے ہیں۔ دفاعی ٹیم کے ایک قریبی شخص نے اس بات کی تردید کرتے ہوئے استغاثہ پر الزام عاید کیا کہ اس نے اتنے سارے گواہوں کو طلب کیا ہے۔اس شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی کیونکہ وہ میڈیا کے ساتھ مقدمے کی تفصیل پر تبادلہ خیال کرنے کا مجاز نہیں تھا۔

اس کے بعد کیا ہوگا؟

آیندہ چند ہفتوں میں استغاثہ کئی ہائی پروفائل گواہوں کو طلب کرے گا۔ان میں موجودہ اپوزیشن لیڈر یائر لبید، اقوام متحدہ میں ملک کے سفیر گیلاڈ ایردان کے علاوہ نیتن یاہو کے سابق چیف آف اسٹاف سے سرکاری گواہ بننے والے اری ہیرو بھی شامل ہیں۔ یہ شہادتیں نیتن یاہو کو مزید شرمندہ کر سکتی ہیں۔

ایک بار جب استغاثہ اپنی فہرست مکمل کرلے گا، جو اگلے سال یا اس سے بھی زیادہ عرصے میں ہونے کی توقع ہے، تو دفاع اپنے گواہوں کو بلانا شروع کر دے گا، جس میں ممکنہ طورپرنیتن یاہو خود بھی شامل ہوں گے۔ اگرچہ اس کی تکمیل کی کوئی باضابطہ تاریخ نہیں ہے،لیکن ماہرین کو توقع ہے کہ تقریبا دو سال میں فیصلہ سنایا جائے گا۔

نیتن یاہو کا دعویٰ ہے کہ ان کے خلاف مقدمات ختم ہو رہے ہیں لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کا کوئی اشارہ نہیں ملااور یہ جاننے کا کوئی طریقہ نہیں ہے کہ تین رکنی پینل آخرکارکس طرح فیصلہ کرے گا۔ اگرنیتن یاہو کو سزا سنائی جاتی ہے تو وہ 15 سال سے زیادہ عرصے تک اسرائیل کے وزیراعظم رہنے کے بعد عہدہ چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

ممکنہ نتائج کیا ہیں؟

عدالت نیتن یاہو کو کچھ یا تمام الزامات پر مجرم قرار دے سکتی ہے، جس کے بعد ان کی سزا کا تعیّن کیا جائے گا۔فیصلے پر منحصر ہے کہ نیتن یاہو اور ریاست دونوں اس فیصلے کے خلاف اپیل کرسکتے ہیں۔ ایسا کرنے سے یہ معاملہ ملک کی سپریم کورٹ میں جائے گا اور نیتن یاہو کی قسمت کے بارے میں ایک قرارداد کو مزید طول ملے گا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سے پہلے کہ موجودہ عدالت کسی فیصلے پر پہنچے،اس بات کا امکان ہے کہ فریقین درخواست کے معاہدے کی کوشش کریں گے، ایک ایسا آپشن جو ماضی میں اور حال ہی میں دوبارہ سامنے آیا ہے۔اس سے نیتن یاہو کو سیاسی جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یروشلم کے تھنک ٹینک اسرائیل ڈیموکریسی انسٹی ٹیوٹ کے سینیئرمحقق عامرفوکس نے کہا کہ عدلیہ میں اصلاحات کا متنازع منصوبہ نیتن یاہو کے مستقبل پر بھی بھاری ہے۔

مگرشدید عوامی دباؤ کے بعداس منصوبے کو فی الحال روک دیا گیا ہےلیکن اگریہ آگے بڑھتا ہے تو نیتن یاہوموجودہ اٹارنی جنرل کو ہٹا سکتے ہیں اور اپنے خلاف الزامات کو خارج کرنے کے قابل ایک اٹارنی جنرل مقررکرسکتے ہیں۔ وہ مستقبل کی کسی بھی اپیل کی سماعت کرنے والے ججوں کے تقررمیں بھی اثرورسوخ حاصل کرسکتے ہیں۔ اس طرح، وہ سزا سے بچ سکتے ہیں یاان کے خلاف ایک مقدمہ مکمل طور پر منسوخ کیاجا سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں