کیا سچ مچ میں یوکرین نے روسی صدر کو ڈرون سے مارنے کی کوشش کی تھی: ماسکو کیا کہتا ہے؟
روسی صدر ولادی میر پوتین کو یوکرین کی جانب سے بمبار ڈرون کے ذریعے مبینہ طور پر قتل کرنے کوشش کے بارے میں میڈیا میں آنے والی افواہوں پر ماسکو کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ روس نے ان تمام قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا ہے جن میں صدر پوتین کو بمبار ڈرون کے ذریعے جان سے مارنے کی کوشش کے بارے میں خبریں شائع کی گئی تھیں۔
روسی صدارتی ترجمان دمتری پیسکوف نے کل جمعرات کو کہا کہ کریملن کو صدر ولادی میر پوتین کو یوکرینی ڈرون کے ذریعے "قتل کی کوشش" کے بارے میں کوئی ٹھوس اطلاع نہیں ملی ہے۔ اس وقت دنیا میں ایسے بہت سی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں لیکن ان کا کوئی وجود نہیں۔
جرمن اخبار Bild نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ یوکرین کی افواج نے گذشتہ اتوار کو UJ-22 ڈرون لانچ کیا جس میں 17 کلو گرام C4 پلاسٹک دھماکہ خیز مواد لدا ہوا تھا،اس نے ماسکو کے قریب نئے تعمیر شدہ روڈنیو صنعتی علاقے کی طرف اڑان بھری تھی، جہاں پوتین کو دورے پر پہنچنا تھا۔ تاہم یہ ڈرون صدر پوتین کی آمد سے پہلے ہدف سے چند کلو میٹر دور گر کر تباہ ہو گیا تھا۔
"Bild" کی اس خبر کے ساتھ اس ڈرون کی تصویر بھی شائع کی گئی ہے۔اس اشاعت کے دو دن قبل کریملن نے روسی صدر کے ایک یا زیادہ کے ہم شکلوں کی تردید کی تھی۔ کریملن کا کہنا ہےکہ ایسا ہرگز نہیں کہ صدر پوتین اپنا زیادہ تر وقت جوہری تابکاری کے اثرات کے اثرات سےمحفوظ بنکرمیں گذارتے ہیں۔