ایران کا یواے ای کی امارت دبئی سے فجیرہ جانے والے آئل ٹینکرپرآبنائے ہرمز میں قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی بحریہ نے اطلاع دی ہے کہ ایران نے خلیج کے پانیوں میں ایک ہفتے کے دوران میں دوسرا آئل ٹینکر قبضے میں لے لیا ہے۔یہ 2019 کے بعد سے خلیج کے پانیوں میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔

بحرین میں موجودامریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے نے کہا ہے کہ پاناما کے جھنڈے والے آئل ٹینکر نیواوی کوایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کی بحریہ (آئی آر جی سی این) نے بدھ کومقامی وقت کے مطابق صبح 6 بج کر 20 منٹ پراس وقت پکڑلیا جب وہ آبنائے ہرمزسے گذررہا تھا۔

امریکی بحریہ نے کہا ہے کہ نیواوی نامی آئل ٹینکر دبئی سے متحدہ عرب امارات کی فجیرہ بندرگاہ کی طرف جارہا تھااور پاسداران انقلاب کی کشتیوں نے اس کا رُخ ایران کی سمندری حدود کی طرف تبدیل کرنے پر مجبورکردیا۔

ریفائنٹیوشپ ٹریکنگ کے اعدادوشمارکے مطابق نیواوی نے آخری بارآبنائے ہرمز میں عمان کے ساحل پر بدھ کوعلی الصباح مقامی وقت کے مطابق 2 بج کر 31 منٹ پراپنی پوزیشن ظاہر کی تھی اوراس کی منزل فجیرہ تھی۔

انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن شپنگ ڈیٹا بیس کے مطابق نیواوی کی مالک گرینڈ فنانسنگ کمپنی ہے ، اور اس جہاز کا انتظام یونان میں قائم اسمارٹ ٹینکرز کے ذریعےکیا جاتا ہے۔

اس سے ایک روزپہلے ہی پاسداران انقلاب ایران کی بحریہ نے خلیج عمان میں مارشل جزائر کے جھنڈے والے آئل ٹینکر ایڈوانٹیج سویٹ کو قبضے میں لے لیا تھا۔منگل کے روز مارشل جزائر کی فلیگ رجسٹری نے بتایا کہ اس ٹینکر کو ایرانی حکام نے بندرعباس میں لنگراندازکیا ہواہے۔

میری ٹائم سکیورٹی فرم امبری کا کہنا ہے کہ ایران نے ایڈوانٹیج سویٹ کو قبضے میں لینے کا اقدام ممکنہ طور پرامریکاکی جانب سے مارشل آئی لینڈز کے ٹینکرسوئزراجن پرلدے تیل کی حالیہ ضبطی کے ردعمل میں کیا ہے۔

تجزیاتی فرم ورٹیکسا کے اعدادوشمار کے مطابق دنیا کی خام تیل اورتیل کی مصنوعات کاقریباً پانچواں حصہ آبنائے ہرمزسے ہوکرگذرتا ہے۔ایران اور عمان کے درمیان ایک تنگ آبی گذرگاہ ہے۔

مارشل آئی لینڈزفلیگ رجسٹری نے منگل کے روز ایک ایڈوائزری میں کہا:’’ان علاقوں میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمی اور جغرافیائی سیاسی تناؤ تجارتی جہازوں کے لیے سنگین خطرات کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ان خطرات کے ساتھ غلط اندازے یاغلط شناخت جارحانہ کارروائیوں کا باعث بن سکتے ہیں‘‘۔

واضح رہے کہ سنہ 2019 کے بعد سے امریکا اورایران کے درمیان کشیدگی کے تناظرمیں خلیج کے تزویراتی پانیوں میں تجارتی جہازوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں