سعودی عرب بڑی تیل کمپنی آرامکو کے اسٹاک مارکیٹ میں ایک اورحصص کی پیش کش کوتیار؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

سعودی عرب کی جانب سے آرامکو کے حصص کی ایک اور اربوں ڈالر کی پیش کش کے منصوبےکو عملی جامہ پہنایاجارہاہے اوراس ضمن میں کوئی بھی نیا معاہدہ حالیہ برسوں میں دنیا کے سب سے بڑے حصص کی فروخت میں سے ایک ہوگا۔

اس معاملے سے آگاہ ذرائع نے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پربتایا کہ سعودی عرب متعدد مشیروں کے ساتھ مل کرالریاض ایکس چینج کے ذریعے آرامکو کے نئے حصص کے قابلِ فروخت ہونے کا جائزہ لےرہا ہے اورحکام آنے والے ہفتوں میں اس بارے میں کوئی فیصلہ کرسکتے ہیں کہ آیاآگے بڑھناہے یانہیں۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کے ولی عہدشہزادہ محمد بن سلمان نے جنوری 2021ء میں کہاتھا کہ حکومت مستقبل میں سرکاری تیل کمپنی کے مزید حصص فروخت کرنے پرغور کرے گی، جس سے حاصل ہونے والی رقم مملکت کے خودمختاردولت فنڈ میں منتقل کی جائے گی۔ ذرائع کاکہنا ہے کہ اگر حکومت پیش رفت کرتی ہے تو آرامکو کے دوسرے حصص کی پیش کش اسی سال میں ہوسکتی ہے۔تاہم اس کے بارے میں کوئی حتمی نظام الاوقات طے نہیں کیا گیاہے۔

اگرحکومت آرامکو کے صرف ایک فی صد حصص کی پیش کش بھی کرتی ہے تواس سے سعودی عرب 20 ارب ڈالر سے زیادہ رقم جمع کرنے میں کامیاب ہوجائے گا۔سعودی حکومت آرامکو کے قریباً 90 فی صد حصص کی براہ راست مالک ہے جبکہ مزید 8 فی صد اس کے خودمختاردولت فنڈ کے پاس ہیں۔

منگل کے روز آرامکو کے حصص میں 4.7 فی صد تک کی گراوٹ آئی۔ الریاض میں دوپہر 2 بج کر 43 منٹ پراسٹاک مارکیٹ میں 2.4 فی صد کمی ہوئی جس سے دنیا کی سب سے بڑی توانائی کمپنی کی مارکیٹ قدرقریباً 21 کھرب ڈالر ہوگئی۔ اس کے حصص نے اس سال ایگزون موبل کارپوریشن جیسی مغربی تیل کمپنیوں کو پیچھے چھوڑدیا ہے۔

منافع میں اضافہ

ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ معاہدے کے درست حجم کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیاگیا ہے اور اگرمارکیٹ کے حالات سازگار نہیں ہوتے تو مملکت آگے نہ بڑھنے کا فیصلہ کرسکتی ہے۔آرامکو کے ایک نمائندے نے اس معاملے پرتبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

آرامکوکے حصص کی دوسری پیش کش نئے سرمایہ کاروں کوراغب کرسکتی ہے کیونکہ کمپنی نے مارچ میں اپنے بنیادی منافع میں اضافہ کیا تھا اور مئی میں کہا تھاکہ وہ اضافی نقدرقم سے حصص داران کو زیادہ ادائی بھی کرے گی۔آرامکو پرحصص داران کی جانب سے یہ بھی دباؤ ہے کہ وہ بی پی پی ایل سی اور شیل پی ایل سی جیسی حریف کمپنیوں کے مقابلے میں زیادہ ادائی کرے اور اپنی کشش کو بہتر بنائے۔یہ دونوں کمپنیاں منافع اورحصص واپس خرید کرنے پراربوں ڈالرخرچ کر رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے تخمینے کے مطابق منافع سے آرامکو کے حصص داران کورقوم کی ادائی میں 20 ارب ڈالر کا اضافہ ہوسکتا ہے۔اس سے نئے عالمی سرمایہ کاروں کو پیش کش میں حصہ لینے کے لیے راغب کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

مارکیٹ اندراج میں سست روی

بہت سے لوگوں نے فرم کی 2019 کی ابتدائی عوامی پیش کش کے دوران میں سعودی حکومت کی قدری توقعات اورآرامکو کی کم پیداوارپرتشویش کا اظہار کیا تھا مگرآرامکو نے مقامی سرمایہ کاروں پر انحصار کرنے کے باوجود اپنے حصص کی ابتدائی عوامی پیش کش (آئی پی او) سے قریباً 30 ارب ڈالر جمع کیے تھے اوریہ اب تک آئی پی او سے حاصل ہونے والی سب سے زیادہ رقم ہے۔

کروناکی وَبا کے نتیجے میں عالمی معیشت کے کمزور ہونے اور مرکزی بینکوں کی جانب سے افراطِ زرسے نمٹنے کے لیےشرح سُود میں اضافے کے بعد گذشتہ سال کے وسط سے تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی آئی ہے۔سعودی عرب نے اپریل میں اوپیک پلس اتحاد کے دیگر ارکان کے ساتھ مل کر تیل کی پیداوار میں اچانک کمی کا اعلان کیا تھا۔الریاض نے اس فیصلہ کو’’تیل کی مارکیٹ کے استحکام کی حمایت میں حفظِ ماتقدم‘‘ کاآئینہ دارقراردیا تھا۔

سعودی عرب عام طور پرخلیج کی مصروف ترین لسٹنگ مارکیٹوں میں سے ایک ہے مگراس سال وہ اب تک خاموش رہا ہے جبکہ ابوظبی اوردیگر اسٹاک ایکس چینج مارکیٹیں توجہ کا مرکزرہی ہیں۔ بلومبرگ نیوز نے رواں ماہ کے اوائل میں خبردی تھی کہ آرامکو نے اپنے انرجی ٹریڈنگ کاروبار کی الریاض اسٹاک مارکیٹ میں ابتدائی عوامی پیش کش کو ملتوی کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں