اعلان جدہ: امت کو درپیش مسائل کے حل کی خاطر عربوں کا تاریخی اتفاق رائے

اعلان جدہ میں شامی بحران کے حل، سوڈان سے یکجہتی اور یمن میں سعودی انیشیٹو کی حمایت پر زور دیا گیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عرب لیگ نے اپنے 32 ویں سربراہی اجلاس کا اختتام اعلان جدہ کی منظوری کے ساتھ کیا ہے جس میں سلامتی اور استحکام کے حصول کے لیے اتحاد کی ضرورت کا اعادہ کیا گیا۔

یہ سربراہی اجلاس جس میں مسئلہ فلسطین، سوڈان، یمن، لیبیا اور لبنان کی پیش رفت سمیت مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا، جمعہ کے روز جدہ میں منعقد ہوا اور اس میں شام نے ایک دہائی سے زائد عرصے کے بعد پہلی بار شرکت کی۔

اعلامیے میں تمام عرب ممالک نے مسئلہ فلسطین کی مرکزیت کا اعادہ کیا اور "بیت المقدس سمیت 1967میں اسرائیلی قبضے میں لیے گئے تمام عرب علاقوں پر فلسطین کے مکمل اختیار اور حق کا اعادہ کیا۔

اعلامیے میں "عرب امن اقدام" کو فعال کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا جس کی سعودی عرب نے تجویز دی تھی اور عرب لیگ نے 2002 میں اس کی توثیق کی۔

اسرائیل۔فلسطینی تنازعہ کئی مہینوں سے شدت اختیار کر رہا ہے۔ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی چھاپے اور آباد کاروں کی جانب سے تشدد کی کارروائیاں اور فلسطینی حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ جنوری سے اب تک مغربی کنارے اور اسرائیل میں 140 سے زیادہ فلسطینی شہید اور 19 اسرائیلی اور غیر ملکی ہلاک ہو چکے ہیں۔

سوڈان کی صورت حال کے بارے میں جہاں 15 اپریل سے فوج اور نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسزکے درمیان لڑائی جاری ہے، اعلامیے میں "غیر ملکی مداخلتوں کو مسترد کیا گیا جو تنازعات کو ہوا دیتے ہیں اور علاقائی سلامتی اور استحکام کو خطرے میں ڈالتے ہیں،" اور متحارب فریقوں کے درمیان بات چیت اور اتحاد پر زور دیا گیا۔

اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی نے جمعہ کو کہا کہ جنگ نے سوڈان کے اندر ایک اندازے کے مطابق 843,000 افراد کو بے گھر کر دیا ہے اور تقریباً 250,000 شہری ہمسایہ ممالک میں پناہ گزین ہیں۔ پچھلے ہفتے، جدہ میں دونوں فریقوں کے درمیان امریکہ۔سعودی ثالثی میں بات چیت اور ایک معاہدے پر دستخط سے ایک معمولی مگر بہتر پیش رفت ہوئی۔

عرب لیگ نے برسوں کی تنہائی کے بعد فورم میں شام کی واپسی کا خیر مقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ اس اقدام سے "شام کے استحکام اور اتحاد میں مدد ملے گی۔"

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ "[ہمیں] شام کے بحران کے حل میں مدد کے لیے عرب کوششوں کو تیز کرنا چاہیے۔"

22 ملکوں پر مشتمل فورم نے شام کو نومبر 2011 میں بشارالاسد کے حزب اختلاف کے احتجاج پر مہلک کریک ڈاؤن کی وجہ سے معطل کر دیا تھا جس نے ایک تنازعہ کی شکل اختیار کر لی تھی جس میں 500,000 سے زیادہ افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو گئے تھے۔

یمن کے بارے میں، اعلامیے میں تمام بین الاقوامی اور علاقائی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا گیا ہے جن کا مقصد بحران کے سیاسی حل تک پہنچنا ہے۔

یمن کی جنگ میں ہزاروں لوگ مارے گئے ہیں اور لاکھوں افراد بین الاقوامی امداد پر انحصار کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ثالثی میں اپریل 2022 میں شروع ہونے والی جنگ بندی نے ہلاکتوں میں تیزی سے کمی کی ہے۔ جنگ بندی کی میعاد اکتوبر میں ختم ہو گئی تھی، لیکن لڑائی بڑی حد تک رکی ہوئی ہے۔

لبنان کے حوالے سے، اعلامیے میں حکام پر زور دیا گیا کہ وہ صدر کے انتخاب کے لیے کوششیں دوبارہ شروع کریں، "جلد سے جلد" کابینہ تشکیل دیں اور موجودہ بحران پر قابو پانے کے لیے اقتصادی اصلاحات کریں۔

لبنان 2019 سے معاشی بحران میں پھنسا ہوا ہے جسے عالمی بینک نے جدید تاریخ کے بدترین بحرانوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔ انتخابات میں نئے صدر کے انتخاب کے لیے کسی بھی فریق کو واضح اکثریت نہ ملنے کے بعد محدود اختیارات کے ساتھ نگراں کابینہ گزشتہ سال مئی سے اقتدار میں ہے۔

بلاک نے عرب ممالک کے اندرونی معاملات میں "غیر ملکی مداخلت" کو مسترد کرنے کا بھی اظہار کیا۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ، "[ہم] مسلح ملیشیاؤں کی تشکیل کی حمایت کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں... [اور خبردار کرتے ہیں] کہ اندرونی فوجی تنازعات لوگوں کے مصائب میں اضافہ ہی کریں گے"

مقبول خبریں اہم خبریں