برطانوی خاتون وزیر داخلہ سویلا بریورمین کو اتوار کو سخت مشکل کا سامنا کرنا پڑا جب ان پر یہ شکوک سامنے لائے گئے کہ وہ تیز رفتار ڈرائیونگ کے بعد ترجیحی سلوک حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اپوزیشن نے برطانوی وزیرا عظم رشی سوناک سے مطالبہ کردیا کہ اس معاملے کی تحقیقات شروع کرائیں۔
وزیر داخلہ پر جرمانہ
اخبار "سنڈے ٹائمز" نے انکشاف کیا ہے کہ وزیرداخلہ پر تیز رفتاری کے باعث جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔ انہوں نے کنسلٹنٹس سے کہا کہ وہ اس کے لیے ٹریفک قوانین کے حوالے سے ایک خصوصی کورس کا اہتمام کریں تاکہ متعدد موٹرسائیکلوں کے گروپ میں کورس کی پیروی سے گریز کیا جائے اور اس کے ڈرائیونگ لائسنس پر پوائنٹس کے نقصان سے بچا جا سکے۔
میں تفصیل نہیں جانتا: رشی سوناک
اس معاملے کے بارے میں صحافیوں کے ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم رشی سونک نے جاپان میں جی 7 سربراہی اجلاس میں کہا کہ وہ اس بارے میں تمام تفصیلات نہیں جانتے کہ کیا ہوا ہے۔
ایف پی کے مطابق خاتون وزیر کے ترجمان نے اس حوالے سے کہا میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے ضرورت سے زیادہ رفتار پر افسوس کا اظہار کیا اور جرمانہ قبول کیا اور جرمانہ ادا بھی کیا۔ ترجمان نے کہا کہ وزیر داخلہ کو یقیناً وزیر اعظم کا اعتماد حاصل ہے۔
قانون کی خلاف ورزی کا اعتراف
دوسری جانب لیبر اپوزیشن نے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر نے وزارتی قانون کے قواعد کی خلاف ورزی کی ہے اور اس کی وجہ سے انہیں حکومت چھوڑنا پڑ سکتی ہے۔
وزیر کے ترجمان نے ایک بیان میں جواب دیا کہ برورمین نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے گزشتہ موسم گرما میں بہت زیادہ رفتار سے گاڑی چلائی اور اس پر افسوس ہے۔ انہوں نے اپنے لائسنس پر تین پوائنٹس کم کرنے کا انتخاب کیا اور گزشتہ برس جرمانہ ادا کیا تھا۔
ذاتی ای میل کا استعمال
خیال رہے سویلا بریورمین کی تقرری کو اس وقت بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا اور انہوں نے 19 اکتوبر کو لِز ٹیرس حکومت سے استعفیٰ دے دیا تھا جب انہوں نے سرکاری دستاویزات بھیجنے کے لیے اپنا ذاتی ای میل استعمال کرنے کا اعتراف کیا تھا۔