ایک امریکی ریاست نے تقریباً 400 سال قبل امریکا میں نوآبادیاتی دور میں جادو ٹونے کے جرم میں سزا پانے والے بارہ افراد کو بری کر دیا ہے۔
ان میں سے گیارہ کو سترہویں صدی کے وسط میں کنیکٹی کٹ (شمال مشرق) میں جادو ٹونے کے مقدمے کے بعد پھانسی دے کر موت سے ہمکنار کردیا گیا تھا جب کہ ان میں سے ایک کو اس سزا سے مستثنیٰ تھا۔
ریاست کنیکٹی کٹ کے حکام نے اس ہفتے اس سمت میں ایک فیصلے کی منظوری دی، جس میں سزائے موت پانے والے افراد کو، جن میں نو خواتین اور دو مرد تھے کو بری کرتے ہوئے اس واقعے کو "عدالتی غلطی" قرار دیا۔
سی ٹی وِچ ٹریل ایگزامینیشن پروجیکٹ جس میں صدیوں پہلے جادوگری کے مرتکب ہونے والوں کی اولادیں شامل ہیں کنیکٹی کٹ کے عہدیداروں کے ووٹ کا خیرمقدم کیا جب انہوں نے اس میں شامل لوگوں کے بعد از مرگ حقوق بحال کرنے کی مہم کی قیادت کی۔
کنیکٹیکٹ کا یہ فیصلہ نیو انگلینڈ میں جادو ٹونے کے لیے پہلی پھانسی کی 376 ویں سالگرہ کے موقع پر آیا ہے۔
سترہویں صدی کے نیو انگلینڈ میں سیکڑوں لوگوں پر جادو ٹونے کا الزام لگایا گیا تھا۔ خاص طور پر میساچوسٹس کے توہم پرستی کے زیرسایہ علاقے سالم میں جادوں گروں کے 1692 اور 1693 کے درمیان مشہور ٹرائلز ہوئے تھے۔
-
مصر میں ممی بنانے والی دو سب سے بڑی ورکشاپیں دریافت
مصر کے وزیر سیاحت و نوادرات احمد عیسیٰ نے گیزہ میں سقرہ کے قدیم علاقے میں ایک نئی ...
بين الاقوامى -
پہلا چینی ساختہ مسافر طیارہ اپنی پہلی کمرشل پرواز پر روانہ ہوگیا
چین کے پہلے خود ساختہ مسافر بردار طیارے ’’ سی 919 ‘‘ نے اتوار کو اپنی پہلی پرواز ...
بين الاقوامى -
دوران پرواز طیارے کا دروازہ کھولنے والے نے وجہ کیا بتائی؟
جنوبی کوریا کے شہر ڈائیگو کے ایئرپورٹ پر جلد اترنے کے لیے دوران پرواز طیارے کا ...
بين الاقوامى