سوڈان: نیم فوجی سریع الحرکت فورسز کا خرطوم میں قومی عجائب گھر پر قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سوڈان کی نیم فوجی سریع الحرکت فورسز کے جنگجوؤں نے دارالحکومت خرطوم میں قومی عجائب گھر پر قبضہ کر لیا ہے جبکہ ان سے ملک کے قومی وتاریخی ورثے اور قیمتی نوادر کے تحفظ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔قیمتی نوادر میں قدیم ممیاں بھی شامل ہیں۔

ڈپٹی ڈائریکٹر اخلاص عبداللطیف نے بتایا کہ سوڈان پر کنٹرول کے لیے اپریل کے وسط سے فوج سے برسرپیکار سریع الحرکت فورسز(آرایس ایف) کے ارکان جمعہ کے روز میوزیم میں داخل ہوئے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ عجائب گھر کے عملہ کو اندر کی صورت حال کا علم نہیں کیونکہ انھوں نے 15 اپریل کو اچانک مسلح تنازع شروع ہونے کے بعد وہاں کام روک دیا تھا اوراس کی حفاظت پرمامور پولیس نے کام چھوڑ دیا تھا۔

آر ایس ایف نے عجائب گھر کے میدان میں فلمائی گئی ایک ویڈیو جاری کی ہے ۔اس میں ایک فوجی اس بات سے انکار کرتا ہے کہ انھوں نے میوزیم کو کوئی نقصان پہنچایا ہے یا ایسا کیا جائے گا اور کسی بھی فرد یا تنظیم کو میوزیم کا دورہ کرنے کی دعوت دی ہے۔

ویڈیو میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ آر ایس ایف کے جنگجوؤں نے کھلی ہوئی ممیوں کو چادروں سے ڈھانپ دیا اور سادہ سفید خانوں کو بند کر دیا جس میں وہ موجود تھیں۔ یہ واضح نہیں تھا کہ ممیوں کو کب اور کیوں بے نقاب کیا گیا تھا۔

سوڈان کا یہ قومی عجائب گھر خرطوم کے وسطی علاقے میں دریائے نیل کے کنارے واقع ایک بڑی عمارت میں ہے۔اس کے نزدیک ہی مرکزی بینک کی عمارت واقع ہے۔اس علاقے میں گذشتہ دنوں میں متحارب فورسز کے درمیان شدید لڑائی ہوئی ہے۔

عجائب گھر کے ہزاروں انمول آثارونوادر میں ڈھائی ہزار سال قبل مسیح کی ممیاں بھی شامل ہیں۔یہ دنیا کی قدیم ترین اور آثار قدیمہ کے لحاظ سے سب سے اہم ممیاں بتائی جاتی ہیں۔

سابق ڈائریکٹر حاتم النور نے بتایا کہ میوزیم میں مجسمے، مٹی کے برتن اور قدیم میورلز بھی رکھے گئے ہیں۔ان میں پتھر کے دور سے لے کر عیسائی اور اسلامی ادوار تک کے نوادرات شامل ہیں۔

سوڈان میں کام کرنے والی فرانسیسی آثار قدیمہ کی ٹیم کی رکن روکسن ٹروکس نے کہا کہ وہ میوزیم کی سیٹلائٹ تصاویر کی نگرانی کر رہی ہیں اور جمعہ سے پہلے ہی وہاں نقصان کے ممکنہ آثار دیکھے جا چکے ہیں۔ان میں جلنے کے آثار موجود ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ’’ہم نہیں جانتے کہ اندر کتنا نقصان ہوا ہے‘‘۔

واضح رہے کہ سوڈان میں متحارب فریقوں کے درمیان متعدد بار جنگ بندی کے سمجھوتے طے پائے ہیں لیکن اس کے باوجود ان میں خرطوم اور دوسرے علاقوں میں لڑائی جاری رہی ہے۔ان کے درمیان سعودی عرب اور امریکا کی ثالثی میں مذاکرات کے نتیجے میں جنگ بندی سمجھوتا بھی شامل ہے۔اس پر دونوں فریقوں نے دست خط ثبت کیے تھے۔اس کی مدت ہفتہ کی شام ختم ہونے والی تھی۔

ہفتہ کی سہ پہر کو شہریوں نے خرطوم کے جنوب اور اس کے جڑواں شہروں ام درمان اور بہری کے شمالی حصوں میں فضائی حملوں اور توپ خانے سے بمباری سمیت جھڑپوں کی اطلاع دی ہے۔ یہ دونوں شہر خرطوم سے دریائے نیل کے اس پار واقع ہیں۔

فریقین کے درمیان مسلسل جھڑپوں، بمباری اور شہری عمارتوں پر قبضے کے بعد واشنگٹن اور الریاض نے مذاکرات معطل کر دیے تھے اور امریکا نے رواں ہفتے کہا تھا کہ وہ دونوں فریقوں کے کاروباری مفادات پر پابندیاں عاید کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں