امریکا میں 12 سالہ لڑکی نے اپنے بھائی کو چھرا گھونپ کر کیوں قتل کیا تھا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکا میں چند ماہ قبل ایک 12 سالہ لڑکی کی جانب سے اپنے 9 سالہ بھائی کو چھرا گھونپ کر قتل کرنے کے واقعے کی مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ تاہم اس وقت یہ معلوم نہیں ہوسکا تھا کہ جرم کی وجوہات کیا ہیں اور لڑکی کو ایسا کرنے پر کس چیز نے اکسایا تھا؟۔ .

تاہم بچی کی والدہ نے بالآخر اپنی خاموشی توڑ دی اور پہلی بار ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں انکشاف کیا کہ یہ حادثہ اس کی کچھ دوائیں لینے کا نتیجہ تھا۔ اس کی تفصیل کے مطابق یہ سانحہ ’’پاگل پن کا واقعہ‘‘ تھا۔

ماں اپریل لیڈا جو ٹولسا اوکلاہوما میں رہتی ہے نے نیوز نیشن کو بتایا کہ اس کی بیٹی کے پرتشدد رویے کی وجہ اس کی ایک دوائی تھی جو جرم سے پہلے ADHD (ہائیپر ایکٹیویٹی اور خلفشار) کا علاج کرتی ہے۔

یہ لڑکی پانچ سال سے اس دوا کو استعمال کر رہی تھی لیکن جب اس نے کرونا وبا کے دوران گھر سے پڑھنا شروع کیا تو اس نے دوائی روک دی تھی۔

لیڈا نے بتایا کہ جب وہ پچھلے سال اسکول واپس آئی اور اس کےنمبر کم آنے تولگے تو وہ اسکول اور ڈاکٹروں کی سفارش پر دوائی لینے کے لیے واپس چلی گئی۔

اس نے کہا کہ جب اس نے خود کو کاٹنا شروع کیا تو وہ رک گئی اور یہ نہیں بتایا کہ اس کی بیٹی کونسی دوا لے رہی ہے۔

اپنے بھائی کے ساتھ اس کے تعلقات کے بارے میں اس نے کہا کہ "وہ اس سے پیار کرتی تھی اور وہ بھی اس سے پیار کرتا تھا۔ اسے کچھ معلوم نہیں کہ اس نے ایسا کیوں کیا۔"

ماں کا کہنا ہے کہ اس کی بیٹی اداس ہے اور وہ خود کو مجرم سمجھتی ہے لیکن وہ ابھی تک نہیں سمجھ پا رہی ہے کہ اس نے ایسا کیوں کیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جب چھرا مارا گیا تو وہ ہوش میں نہیں تھی۔

لیڈا نے کہا کہ اس کی بیٹی نے قتل سے پہلے کے دنوں میں کوئی پرتشدد یا جارحانہ رویہ نہیں دکھایا، لیکن خاندان کو ان تبصروں سے معلوم ہوا جو اس نے اپنے بھائی کو چھرا گھونپنے کے بارے میں پہلے سے دوستوں کو دیے تھے۔

قابل ذکر ہے کہ چھرا گھونپنے کا واقعہ گذشتہ جنوری میں پیش آیا تھا جب ٹولسا پولیس ڈیپارٹمنٹ نے کہا تھا کہ 12 سالہ لڑکی نے اپنی ماں کو جگایا اور بتایا کہ اس نے ابھی اپنے بھائی کو چاقو مارا ہے۔ لڑکے کو ہسپتال لے جایا گیا جہاں اس کی موت ہو گئی تھی۔ .

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں