لبنان میں قید میرے بھائی ھانیبال کی صحت انتہائی خراب ہے: سیف قذافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

لیبیا کے سابق صدر مرحوم کرنل معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی نے کہا ہے کہ بھوک ہڑتال شروع کرنے کے بعد ان کے بھائی ھانیبال کی صحت کی حالت انتہائی تشویشناک ہوگئی ہے۔ وہ کئی بیماریوں کا شکار ہیں اور انہیں دیکھ بھال کی اشد ضرورت ہے۔ ھانیبال نے احتجاجا دوائی لینا بھی چھوڑ دی ہے۔ یاد رہے ھانبیال کئی سال سے لبنان میں نظر بند ہیں اور کچھ روز قبل انہوں نے بھوک ہڑتال شروع کر دی تھی۔

سیف قذافی نے آج ہفتہ کے روز ایک پریس بیان میں مزید کہا ان کے بھائی کی حراست غیر قانونی اور غیر انسانی ہے۔ خاص طور پر اس صورت میں جب انہیں بغیر کسی مقدمے حراست میں رکھا گیا ہے۔

ھنبیال اور ان کی بیوی
ھنبیال اور ان کی بیوی

یہ بات بھی حیران کن تھی کہ ان پر لبنانی عالم امام موسیٰ الصدر کی جگہ سے متعلق معلومات کو چھپانے کا الزام لگایا گیا تھا حالانکہ الصدر کی گمشدگی کے وقت ان کی عمر صرف ایک سال تھی۔ ھانیبال نے اپنی گرفتاری کے خلاف 3 جون کو بھوک ہڑتال شروع کر دی تھی اور اب ان کی طبیعت بگڑ گئی ہے۔

ان کے وکیل پال رومنز نے ’’العربیہ‘‘ سے رابطے میں بتایا کہ ھانیبال قذافی کو بھوک ہڑتال سے قبل ہی پیٹ میں درد اور نقل و حرکت میں دشواری کا سامنا تھا۔

ھانیبال نے ایک لبنانی خاتون سے شادی کی تھی اور انہیں 2015 میں لبنانی عسکریت پسندوں نے شام سے اغوا کیا تھا جہاں وہ ایک سیاسی پناہ گزین کے طور پر مقیم تھے۔ ان سے مشہور شیعہ عالم کی قسمت کے بارے میں معلومات کا مطالبہ کیا کیا گیا تھا۔ یہ عالم لیبیا میں 1978 میں یعنی 45 سال پہلے لاپتہ ہوئے تھے۔

عالم موسی الصدر کے اہل خانہ کا خیال ہے کہ وہ لیبیا کی کسی جیل میں اب بھی زندہ ہو سکتے ہیں حالانکہ زیادہ تر لبنانیوں کا خیال ہے کہ وہ مر چکے ہیں۔ اگر موسی الصدر اب تک زندہ ہوتے تو ان کی عمر 94 سال ہوتی۔

لبنانی عدلیہ نے لیبیا کے اس قیدی ھانبیال پر "امام موسی الصدر اور ان کے دو ساتھیوں، شیخ محمد یعقوب اور صحافی عباس بدر الدین کے متعلق معلومات چھپانے کا الزام لگایا ہے۔ لیبیا کے متعدد فریقوں کی جانب سے ھانبیال کی رہائی کے لیے مداخلت کی کوششوں کے باوجود قذافی کے بیٹے کا معاملے کا ابھی تک عدالتی تصفیہ نہیں کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں