حج 1444

یمن کے دارالحکومت صنعاء سے پہلی حج پرواز 17 جون کو سعودی عرب روانہ ہوگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یمن کی قومی فضائی کمپنی یمنی ایئرویز کی پہلی حج پرواز 17 جون بروز ہفتہ صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے عازمین کو لے کر سعودی عرب روانہ ہوگی۔

یہ بات یمنی وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے جمعرات کو ایک ٹویٹ میں بتائی ہے۔یمن کے دارالحکومت صنعاء پر 2014 سے ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کا قبضہ ہے۔اس کو واگزار کرانے کے لیے عرب اتحاد نے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کے لیے مداخلت کی تھی۔

معمرالاریانی نے ٹویٹ میں مزید کہا ہے کہ صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے جدہ اور مدینہ منورہ کے ہوائی اڈوں کے لیے پروازیں شروع کرنے کا فیصلہ یمن کی صدارتی قیادت کونسل (پی ایل سی) کے صدر رشاد العلیمی کی ہدایات کی روشنی میں اور سعودی عرب کے تعاون سے کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا:’’مشکل صورت حال اور دہشت گرد حوثی ملیشیا کی طرف سے یمنی شہریوں کو نشانہ بنانے اور انھیں محدود کرنے کے اقدامات کے باوجود،رشاد العلیمی شہریوں کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے مختلف سطحوں پر بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ پی ایل سی کے سربراہ "برادر اور دوست ممالک" کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ ملک کو درپیش غیر معمولی حالات کی روشنی میں یمنی شہریوں کو سہولتیں مہیا کی جا سکیں۔

دوسری جانب سعودی عرب کی وزارتِ حج و عمرہ نے بھی اس خبر کی تصدیق کی ہے اور سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ فیصلہ سعودی عرب کی اس خواہش پرمبنی ہے جس کے تحت وہ جنگ زدہ ملک کے مختلف حصوں سے یمنیوں کو فریضۂ حج کی ادائی کے لیے مملکت میں لانا چاہتا ہے۔

بیان کے مطابق یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ یمن کے عازمین حج کو صنعاء بین الاقوامی ہوائی اڈے سے جدہ کے شاہ عبدالعزیز بین الاقوامی ہوائی اڈے تک حج کی ادائی کے لیے سہولت مہیا کی جائے۔

حج 26 جون سے شروع ہوگا۔ تاہم سعودی حکام کی جانب سے ابھی تک اس کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔اس سال قریباً 26 لاکھ مسلمان کووِڈ۔19 کے بعد پہلی بار مناسکِ حج ادا کرنے کے لیے اکٹھے ہوں گے۔

واضح رہے کہ اپریل 2022 میں یمن میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد لڑائی میں کافی کمی آئی ہے۔ یہ جنگ بندی اکتوبر میں ختم ہو گئی تھی، لیکن تب سے لڑائی بڑی حد تک رکی ہوئی ہے۔

یمن میں سعودی عرب کے سفیر محمد ال جابر نے اپریل میں حوثیوں کے زیر قبضہ دارالحکومت صنعاء کا دورہ کیا تھا۔ یہ جنگ بندی کو مستحکم کرنے کی ایک کوشش تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں