سعودی ہلال احمر نے 2300 سے زیادہ مرد و خواتین رضاکاروں کو فریضۂ حج ادا کرنے والے عازمین کو ہنگامی خدمات مہیا کرنے کے لیے تعینات کیا ہے۔
العربیہ کی رپورٹ کے مطابق سعودی ہلال احمر کے مطابق 2200 سے زیادہ ہیلتھ پریکٹیشنرز ہنگامی صورت حال میں عازمین حج کی خدمت کو تیار ہیں اور 240 سے زیادہ زمینی اور فضائی ایمبولینسیں بھی تیار رکھی جائیں گی۔
مدینہ منورہ میں مسجد نبویﷺ میں اور اس کے ارد گرد ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے 700 سے زیادہ رضاکار کام کریں گے۔رضاکار مکہ مکرمہ میں المسجد الحرام کی اہم جگہوں میں بھی چوبیس گھنٹے کام کریں گے۔
اس سال حج آپریشنل پلان اب تک کا سب سے بڑا منصوبہ ہے اور عازمین حج کی تعداد کرونا وائرس کی وبا سے پہلے کی سطح تک پہنچ جائے گی۔کووڈ-19 کی وجہ سے سعودی عرب میں پابندیوں کے نفاذ سے قبل 2019ء میں 26 لاکھ سے زیادہ افراد نے فریضہ حج ادا کیا تھا۔
#SRCA has completed its preparations to provide necessary ambulance services to pilgrims during Hajj season 1444 H, with over 2200 health practitioners distributed throughout the entire Hajj journey pic.twitter.com/mWNjptrIH7
— Saudi Red Crescent (@mediasrcaen) June 17, 2023
حجاج کرام کی رہنمائی اور معاونت کے لیے آیندہ ہفتے میں 14 ہزار ملازمین پر مشتمل عملہ کے علاوہ 8 ہزار سے زیادہ رضاکار بھی تعینات کیے جائیں گے۔مکہ مکرمہ میں سالانہ حج 26 جون سے شروع ہوگا۔
صدارت عامہ برائے امورِ مقدسہ کے صدر ڈاکٹر عبدالرحمٰن السدیس نے قبل ازیں کہا تھا کہ کرونا وبا کے خاتمے اور لاکھوں کی تعداد میں عازمین کی واپسی کے اعلان کے بعد رواں سال حج سیزن میں سب سے بڑا آپریشنل پلان ترتیب دیا گیا ہے۔