ویگنر کی بغاوت سےاندازہ ہوا کہ روس میں مکمل افراتفری پھیل چکی ہے: زیلینسکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بیلاروس کے صدر کی جانب سے روس کی نجی ملیشیا ’ویگنر گروپ‘ کی بغاوت روکنے کے لیے گروپ کے سربراہ کے ساتھ معاہدے کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان کے بعد ویگنر گروپ کے مسلح عناصر کوواپس اپنی بیرکوں میں جانے کا حکم دیا گیا ہے۔

دوسری طرف یوکرین کے صدر ولادی میر زیلنسکی بھی روس میں ویگنر گروپ کی مسلح بغاوت پر تبصرہ کیا ہے۔

یوکرینی صدر کا کہنا ہے کہ ویگنر کی بغاوت سے پتا چلتا ہے کہ روس میں مکمل طور پر افراتفری پھیل چکی ہے۔

کل ہفتے کو انہوں نے زور دے کر کہا کہ کوئی بھی کریملن کی روس پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی صلاحیت کے بارے میں غلط فہمی کا شکار ہوسکتا ہے ، وہ مسئلے کو ملتوی کر دیتا ہے۔ روسی صدر ولادی میر پوتین کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "آپ کی افواج جتنی دیر تک یوکرین کی سر زمین پر رہیں گی ، روس کو اتنا ہی زیادہ نقصان پہنچے گا‘‘۔

"روس میں مکمل افراتفری"

زیلنسکی نے مزید کہا کہ روسی نجی فوجی گروپ ویگنر کے عناصر کی بغاوت نے روس میں مکمل افراتفری کا انکشاف کیا ہے۔

انہوں نے ایک ویڈیو تقریر میں کہا کہ "آج دنیا دیکھ سکتی ہے کہ روس کے آقا کسی بھی چیز پر قابو نہیں رکھتے۔ اس کا مطلب ہے کہ مکمل افراتفری کے سوا روس میں کچھ نہیں"۔

'ہم خاموشی سے کھڑے نہیں رہیں گے'

زیلنسکی نے کہا کہ ان کا ملک خاموش نہیں رہے گا اور نہ ہی اس کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ یورپ کے مشرقی حصے کی سلامتی مکمل طور پر ہمارے دفاع پر منحصر ہے۔ انہوں نے یورپی ممالک مطالبہ کیا کہ وہ یوکرینی فوج کو ’ایف 16‘ طیاروں سمیت تمام ضروری ہتھیار فراہم کریں۔

زیلنسکی نے یوکرینی زبان میں بات کرنے کے بعد روسی زبان میں ولادی میر پوتین سے کہا کہ "آپ کی افواج جتنی دیر یوکرین کی سرزمین پر رہیں گی، آپ روس کو اتنی ہی تباہی دیں گے۔"

دریں اثنا یوکرینی صدر نے مغرب پر زور دیا کہ وہ ان کے ملک کو جنگی طیارے اور 300 کلومیٹر تک مار کرنے والے "اتاکمز" قسم کے ٹیکٹیکل میزائل سسٹم فراہم کرے۔

بغاوت ختم کرنے کا معاہدہ

خیال رہے کہ برسوں سے روسی فوج کے ساتھ مل کر یوکرین میں جنگ لڑنے والی نجی ملیشیا ویگنرکے سربراہ یوگینی پریگوزین نے گذشتہ روز بغاوت کردی تھی۔ بغاوت کے چوبیس گھںٹے کے اندر اندر انہوں نے جنگ بندی معاہدہ کیا ہے۔ انہوں نے ماسکو کی طرف پیش قدمی کرنے والےاپنے سپاہیوں کو پسپائی اختیار کرنے اور واپس اپنے اڈوں پر جانے کا حکم دیا ہے۔

بیلا روس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کے دفتر نے کہا ہے کہ انھوں نے صدر پوتین کی منظوری سے پریگوزن سے بات کی ہے اور واگنر ملیشیا کے سربراہ نے کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

ایوگنی پریگوزن نے اپنی پریس سروس کی طرف سے جاری کردہ ایک آڈیو پیغام میں کہا کہ’’وہ واگنر ملٹری کمپنی کو ختم کرنا چاہتے تھے۔ ہم نے 23 جون کو انصاف کے لیے مارچ کا آغاز کیا۔ 24 گھنٹے میں ہم ماسکو سے 200 کلومیٹر دور رہ گئے۔ اس دوران میں ہم نے اپنے جنگجوؤں کے خون کا ایک قطرہ بھی نہیں بہایا‘‘۔

انھوں نے مزید کہا:’’اب وہ وقت آ گیا ہے جب خون بہایا جا سکتا ہے۔ اس بات کی ذمے داری کو سمجھتے ہوئے کہ ایک طرف روسی خون بہایا جائے گا، ہم اپنے دستوں کو لوٹا رہے ہیں اور منصوبہ بندی کے مطابق فیلڈ کیمپوں میں واپس جا رہے ہیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں