بغاوت کا پھیلاؤ روکنے کے لیے روس نے واگنر کے سوشل میڈیا نیٹ ورکس بلاک کردیے
روسی حکام اور واگنر گروپ کی افواج کے درمیان اعلان کردہ جنگ صرف جھڑپوں اور فائرنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ ہفتے کے روز فیڈرل اتھارٹی فار کمیونیکیشنز اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے بتایا کہ کہ اس نے نجی ملٹری کمپنی ’’ واگنر‘‘ کے گروپوں کے سوشل میڈیا نیٹ ورکس بھی بلاک کر دئیے تھے۔ اتھارٹی نے بتایا کہ یہ فیصلہ فوجی بغاوت میں حصہ لینے کے لیے واگنر کی اپیلوں کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کیا گیا۔
روسی حکام کی جانب سے یہ اقدام اس وقت اٹھایا گیا جب واگنر گروپ کے 62 سالہ سربراہ پریگوزن نے جمعہ کی شام نافرمانی اور فوجی بغاوت جیسے اعلانات کردیے تھے اور فوج سے روسی فوج کا تختہ الٹنے کا مطالبہ بھی کردیا تھا۔
اس اعلان کے بعد بعض علاقوں می جھڑپیں بھی ہوئیں۔ یوکرین کی سرحدوں کے قریی علاقوں میں داخل ہوکر واگنر فورسز نے فوجی لیڈروں کو بھی اپنے کنٹرول میں لے لیا تھا۔ اس دوران فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔