سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات میں اخراجات میں اضافے کے باوجود کاروباری حالات بہتر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں کاروباری حالات ماہ جون میں بہتر ہوئے ہیں جبکہ کاروباری لاگت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

طلب میں تیزی نے عرب دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں کو نئے کاروباری آرڈر حاصل کرنے اور روزگار کی سطح کو برقرار رکھنے میں مدد دی ہے۔ الریاض بینک کے مطابق سعودی عرب کا خریداری انتظام اشاریہ (پرچیزنگ منیجرز انڈیکس) مئی میں 58.5 سے بڑھ کرجون میں 59.6 ہو گیا۔ہمسایہ ملک متحدہ عرب امارات کے لیے اسی طرح کے ایس اینڈ پی گلوبل سروے کا اشاریہ 55.5 سے بڑھ کر جون میں 56.9 ہو گیا۔

دونوں پیمانے 50 کے نشان سے بہت اوپر ہیں جو نمو کو سکڑنے سے الگ کرتے ہیں۔ یہ ممالک دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندگان میں سے ایک ہیں اور انھوں نے روس کے یوکرین پر حملے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں 100 ڈالر فی بیرل سے زیادہ اضافے سے فائدہ اٹھایا ہے۔

سعودی عرب 2022 میں جی 20 کی سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت تھا۔اس کے بعد عالمی معیشت کی سست روی کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے ، جس کی وجہ سے اس سال سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی معاشی ترقی کمزور ہوگی۔تاہم فی الوقت معاشی حالات مضبوط ہیں۔

سعودی عرب میں غیر تیل نجی شعبے کی کمپنیوں نے اپنی خریداری کی سرگرمیوں میں ریکارڈ تیز شرح سے اضافہ کیا جبکہ روزگار میں اضافہ 2015 کے بعد سے سب سے بلند سطح پر تھا۔

الریاض بینک کے چیف اکانومسٹ نایف الغیث کا کہنا ہے کہ ’’یہ معاشی اضافہ افراط زر کے دباؤ میں اضافے کے ساتھ ساتھ عملہ اور تعمیراتی مواد کی لاگت میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے‘‘۔

امریکا اور یورپ سمیت دنیا کے بیشتر حصوں کے مقابلے میں خلیج میں افراط زر کم ہے، مئی میں سعودی عرب میں قیمتوں میں سال بہ سال کے حساب سے 2.8 فی صد اضافہ ہوا۔اس کے باوجود، 2021 کے بعد سے معاشی نمو میں تیزی آئی ہے اور مملکت اور متحدہ عرب امارات دونوں نے گذشتہ سال کم آمدن والے شہریوں کی مدد کے لیے اربوں ڈالر مختص کیے تھے۔

سعودی عرب میں بعض کمپنیوں کو توقع ہے کہ وہ آیندہ سال میں حکومت کی حمایت یافتہ سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھائیں گی جبکہ تعمیراتی شعبے سے وابستہ کمپنیاں 'خاص طور پر پُرامید' ہیں۔

مینوفیکچررز نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور مملکت اور بیرون ملک دونوں میں فروخت میں تیزی آئی ہے۔ سال کے آغاز کے بعد سے نقطہ نظر کا اعتماد بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔متحدہ عرب امارات کی فرموں کو بڑھتی ہوئی طلب اور کاروباری لاگت میں معمولی اضافے کے باوجود اپنے چارجز کم کرنا پڑے ہیں۔

ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلی جنس کے اکنامکس ڈائریکٹر اینڈریو ہارکر نے کہا کہ ’’اس میں سے کچھ اضافہ صارفین کو رعایت کی پیش کش پر مبنی تھا۔ یہ طویل مدتی طور پر پائیدار نہیں ہوسکتا ہے کیونکہ کاروباری لاگت بڑھ رہی ہیں‘‘۔

متحدہ عرب امارات میں، مہنگے خام مال کی وجہ سے خریداری کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جبکہ مضبوط کاروباری کارکردگی عملہ کے زیادہ اخراجات کی ایک وجہ تھی۔آنے والے سال کے پیش منظر کے لیے امید میں اضافہ ہوا لیکن جذبات مئی کے مقابلے میں کم تھے اور امارات میں تاریخی اوسط سے بھی کم تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں